صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 260
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۶۰ ۶۴ - کتاب المغازی دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی، اس لئے شہر کو محفوظ رکھنے کے لئے خندق کھودنے کا فیصلہ ہوا۔خندق ان اطراف میں کھو دی گئی جن سے دشمن کے داخل ہونے کا احتمال تھا۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خندق کی کھدائی میں خود شریک ہوئے۔(روایت نمبر ۴۱۰۱) خندق کھودنے والوں کی تعداد ایک ہزار تھی۔(روایت نمبر ۴۱۰۲) خندق کا عرض اتنا تھا کہ سوار اسے پھلانگ نہ سکتا تھا۔خندق کی کھدائی نہایت محنت سے کی گئی۔مردوں کے ساتھ لڑکے بھی شریک ہو گئے تھے۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی دیگر مجاہدین کی طرح خندق کھودتے اور مٹی ڈھوتے۔آپ کے اس نیک نمونے اور آپ کے دعائیہ اشعار سے صحابہ کرام میں روح نشاط اور جوش عمل قائم رہا جو مجاہدین کے جوابی اشعار رجزیہ سے ظاہر ہے۔(روایت نمبر ۴۰۹۹، ۴۱۰۰) ۱۰۔خندق کھودتے وقت ایک سنگلاخ ٹکڑا حائل ہوا، جسے مجاہدین نہ توڑ سکے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ضرب سے ریزہ ریزہ ہو گیا۔(روایت نمبر ۴۱۰۱) غزوہ احزاب کے وقت ملک میں قحط تھا اور خوراک کی قلت کا یہ حال تھا کہ مجاہدین کو فی کس ایک دو مٹھی جو ملتے جس کے ساتھ بو دار چربی ملا کر دلیہ تیار ہوتا اور اس پر گزارہ کرتے ( روایت نمبر ۴۱۰۰) ۱۲ حضرت جابر کی دعوت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاو برکت سے ایک ہزار مجاہدین نے سیر ہو کر کھانا کھایا اور کھانا بچ بھی رہا۔یہ واقعہ بھی مجاہدین کے لئے موجب تقویت اور ازدیاد نشاط وایمان ثابت ہوا۔(روایت نمبر ۴۱۰۲) غزوہ احزاب میں صورتِ احوال نہایت تشویشناک اور پریشان کن تھی۔اس کا نقشہ سورۃ الاحزاب میں نہایت بلیغ اسلوب اور جامع اور مانع الفاظ میں کھینچا گیا ہے۔(روایت نمبر ۴۱۰۳) ایک بار دن بھر گھمسان کی لڑائی ہوتی رہی یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کو نماز عصر وقت پر ادا کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔آپ نے یہ نماز سورج غروب ہونے کے بعد باجماعت پڑھی۔(روایت نمبر ۴۱۱۲،۴۱۱۱)۔۱۵ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مضطربانہ دعا فرمائی جو قبول ہوئی اور دشمن کی صفوں میں نیبی اسباب کے ذریعہ یکایک انتشار پیدا ہوا۔دلوں پر مایوسی طاری ہوئی اور افراتفری پھیل گئی۔(روایت نمبر ۴۱۱۵،۴۱۱۳) ملائکتہ اللہ کی امداد ایک تیز و تند آندھی کی صورت میں آئی جس سے آگیں بجھ گئیں اور مشرکین نے بدشگون لیا۔(روایت نمبر ۴۱۰۵)