صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 259 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 259

۲۵۹ صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی چڑھاؤ کرتا رہا۔یہاں تک کہ وہ اس کی باتوں میں آگیا۔حیی بن اخطب نے اس سے پختہ وعدہ کیا کہ اگر قریش اور غطفان محمد (صلی ) کو نقصان پہنچائے بغیر واپس چلے گئے تو وہ اس کے ساتھ اس کے قلعہ میں آجائے گا اور جو تکلیف ( اور سزا) انہیں پہنچے گی وہ بھی اس میں ان کا شریک ہوگا۔اس پر کعب بن اسد نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنا معاہدہ توڑ دیا۔جب آپ کو کعب سردار بنی قریظہ کی بد عہدی کی اطلاع ملی تو آپ نے حضرت سعد بن معاذ سردار اوس اور حضرت سعد بن عبادہ سردار خزرج کو کعب کے پاس بھیجا کہ اس سے پوچھیں کہ آیا یہ خبر درست ہے اور ان سے فرمایا کہ اگر یہ درست ہو تو آکر مجھے اشارہ سے سمجھا دینا، کسی اور کو خبر نہ ہو۔چنانچہ ان دونوں نے واپس آکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: عضل وقارہ یعنی ان قبیلوں کی سی غداری ہے۔ابن سعد نے بھی اختصار کے ساتھ حی بن اخطب کی دسیسہ کاری کا ذکر کیا ہے اور ان کے ساتھی نے بھی۔! اس کے علاوہ مغازی کی روایتوں میں یہ بھی ذکر ہے کہ مدینہ کے شرقی اور غربی میدانوں کے کس حصہ میں اور کہاں کہاں کونسے قبیلے نے ڈیرہ لگایا اور مورچے قائم کئے تھے۔بعض مؤرخین نے ان روایتوں کی بناء پر جنگ احزاب کا نقشہ بھی تیار کیا ہے جس سے جنگی مورچہ بندی کی کیفیت کا علم ہوتا ہے اور یہ بھی بتایا ہے کہ مہاجرین کا علم حضرت زید بن حارثہ اور انصار کا علم حضرت سعد بن عبادہ کے سپرد کیا گیا۔اور جنگ کی کیفیت بھی بیان کی گئی ہے کہ دشمن کے سواروں نے کئی دن تک ہر چند کوشش کی کہ خندق کو پاٹ دیں مگر وہ پاٹ نہ سکے اور بتایا ہے کہ ان کا محاصرہ ہیں دن سے ایک ماہ تک رہا۔کے امام بخاری نے ایسی تمام روایتیں نظر انداز کر دی ہیں کہ وہ ان کے معیارِ صحت کے مطابق نہیں۔کسی کی تو سند روایت میں خامی ہے اور کسی راوی کا صحابہ سے ملنا ثابت نہیں اور کوئی روایت سماعی ہے۔وعلی ھذا القیاس۔امام موصوف نے اس باب میں ہیں روایتیں نقل کی ہیں جن میں مذکورہ بالا تفصیلات تو نہیں مگر غزوہ احزاب سے متعلق ضروری باتیں موجود ہیں جن کا ملخص حسب ذیل ہے: ا غزوہ احزاب، غزوہ اُحد کے ایک سال بعد ماہِ شوال ۴ھ میں ہوا جبکہ شدید سردی کا موسم تھا۔( باب ۲۹، روایت نمبر ۴۰۹۷) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر بھی سابقہ تدبیر جنگ ہی ملحوظ رکھی کہ حملہ آور شہر کے اندر نہ آنے پائیں، حدود شہر سے باہر اُن کا مقابلہ کیا جائے۔( السيرة النبوية لابن هشام، غزوة الخندق، جزء ۳ صفحه ۱۷۳،۱۷۲) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ الخندق، جزء ۲ صفحه ۶۳) السيرة الحلبية، غزوة الخندق، جزء ۲ صفحه ۲۲۱-۴۲۸) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ الخندق، جزء ۲ صفحه ۶۳) إمتاع الأسماع للمقريزي، غزوة الخندقی، جزء اول صفحه ۲۲۱-۲۴۲)