صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 258 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 258

صحيح البخاری جلد ۸ ۲۵۸ ۶۴ - کتاب المغازی وہاں حفاظتی چوکیاں قائم کر کے محافظوں کے ذریعہ گزر گاہیں محفوظ کر دی گئی تھیں۔خندق کی تیاری کے اثنا میں آپ نے سلع پہاڑی پر خیمہ زن ہو کر قیام کیا تا مختلف جہات کی نگرانی فرما سکیں۔عورتیں بچے اور کمزور لوگ (آطام) قلعہ نما محلوں میں ٹھہرائے گئے اور ان کے کھانے پینے اور حفاظت کا انتظام کیا گیا۔یہودی قبیلہ بنو قریظہ کی غداری کا اندیشہ تھا اس کے لئے بھی احتیاطی تدبیر اختیار کی گئی۔وہاں دو سو نفری کا دستہ متعین ہوا۔خندق کی کھدائی سے متعلق مذکورہ بالا تفصیل طبقات ابن سعد، سیرت ابن ہشام وغیرہ کتب مغازی میں وارد ہوئی ہے۔لکھا ہے کہ آپ نے بسم اللہ کہہ کر خندق کی کھدائی شروع فرمائی ہے اور یہ بھی مذکور ہے کہ احزاب کے تین بڑے لشکر تھے: (۱) قبائل غطفان زیر قیادت عیینہ بن حصن فزاری (۲) قبائل بنی سلیم زیر قیادت سفیان بن عبد شمس (۳) قبائل بنی اسد زیر قیادت طلیحہ بن خویلد۔یہ تین لشکر بڑے تھے۔ان میں سے ہر لشکر قبیلہ وار اپنے اپنے سردار الشكرة کے ماتحت تھا۔ابوسفیان بن حرب سردار قریش اپنی فوج اور باقی تمام افواج کا سپہ سالار اعظم تھا۔حیی بن اخطب بھی ان کے ساتھ آیا تھا تا بنو قریظہ کو ورغلا کر احزاب کے ساتھ شریک کرے۔ابن اسحاق نے وہ گفتگو نقل کی ہے جو اس کے اور کعب بن اسد قرظی سردار بنی قریظہ کے درمیان ہوئی، لکھا ہے کہ اس کے آنے کی اطلاع پا کر کعب نے دروازہ بند کر دیا اور کہا کہ محمد (صلی ایم) سے اس کا معاہدہ ہو چکا ہے اور وہ اس میں غداری کرنے کے لئے تیار نہیں۔حیی بن اخطب نے طنزاً کہا: دروازہ نہیں کھولتے کہ کہیں دلیہ نہ کھلانا پڑے۔عربی میں یہ الفاظ منقول ہیں: إِن أَخْلَقْتَ دُونِي إِلَّا عَنْ جُشَيْئَتِكَ أَن أَكُلَ مَعَكَ مِنْهَا۔اس پر اس نے دروازہ کھول دیا۔ابن اخطب نے کہا: وَمُحَكَ يَا كَعْبُ جِئْتُكَ بِعِ الدَّهْرِ وَ بِبَحْرٍ طَاةٍ۔۔۔قَدْ عَاهَدُونِي وَعَاقَدُونِ عَلَى أَن لَّا يَبْرَحُوا حَتَّى نَسْتَأْصِلَ مُحَمَّدًا وَ مَنْ تَعَهُ۔میں زمانے کے معزز ترین لوگ اپنے ساتھ لایا ہوں ، جوش و خروش والا ایک سمندر ہے۔انہوں نے مجھ سے عہد کیا ہے کہ وہ یہاں سے نہیں ہٹیں گے جب تک محمد (صلی ال) اور اس کے ساتھیوں کی بیخ کنی نہ ہو جائے۔کعب نے کہا: جنتَنِي وَاللَّهِ بِذُلِ الدَّهْرِ وَبِجَهَامٍ قَدُ هُرَاقَ مَاءَهُ فَهُوَ يُرْعِدُ وَ يُبْرِقُ لَيْسَ فِيهِ شَيْءٌ وَيُحَكَ يَا حُيَى فَدَعْنِي وَمَا أَنَا عَلَيْهِ فَإِنِّي لَمْ أَرَ مِنْ مُّحَمَّدٍ إِلَّا صِدْقًا وَوَفَاء، فَلَمْ يَزَلْ حُيَيٍّ بِكَعْب يَفْتِلُهُ فِي الذَّرْوَةِ وَالْغَارِبِ حَتَّى سَمَحَ لَهُ عَلَى أَن أَعْطَاهُ عَهْدًا وَمِيْثَاقًا لَئِنْ رَجَعَتْ قُرَيْقٌ وَغَطْفَاتٍ وَلَمْ يُصِيبُوا مُحَمَّدًا أَن أَدْخُلَ مَعَكَ فِي حِصْنِكَ حَتَّى يُصِيبُنِي مَا أَصَابَكَ فَنَقَضَ كَعْبُ ابْنُ أَسَدٍ عَهْدَهُ وَبَرِئَ مِمَّا كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ ال ترجمہ : خدا کی قسم! تم پرلے درجہ کے ذلیل لوگ لائے ہو۔وہ بے پانی کا بادل ہے جس میں گرج اور چمک کے سوا کچھ نہیں۔جس حالت میں ہوں اس میں مجھے رہنے دو۔محمد (صلی ہی کی راستباز اور وفادار ہیں۔حیی بن اخطب کعب سے اُتار ا ( الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ الخندق، جزء ۲ صفحه ۶۸،۶۳،۶۷،۶۲) المغازي للواقدی، غزوة الخندق، جزء ۲ صفحه ۴۶۰،۴۵۱،۴۵۰) (السيرة الحلبية، غزوة الخندق، جزء ۲ صفحه ۴۱۹) (تاریخ الخميس، غزوة الخندق، جزء اول صفحه ۴۸۱)