صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 256 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 256

صحیح البخاری جلد ۸ ۲۵۶ ✓ ۶۴ - کتاب المغازی اس قیاس کی تائید غزوہ دومۃ الجندل سے بھی ہوتی ہے۔دومۃ الجندل ملک شام کا سرحدی علاقہ ہے۔اس ملک کی پیداوار میوه و غله و پار چات وغیرہ تجارتی قافلوں کے ذریعہ سے براستہ دومۃ الجندل مدینہ پہنچتی تھی۔قبیلہ غطفان نے ان قافلوں کو لوٹنا شروع کر دیا۔اس لئے ان کی آمد ورفت رُک گئی۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو قبیلہ غطفان کی سرکوبی اور امن عامہ کی بحالی کے لیے ایک ہزار مجاہد لے کر آپ خود اس علاقہ میں گئے۔غطفانی ڈا کو آپ کی آمد سے متعلق خبر پا کر منتشر ہو گئے۔اس سفر میں اہل دومتہ کے ساتھ نیک تعلقات قائم ہوئے اور وہ اس علاقہ میں امن عامہ کے ذمہ دار ٹھہرائے گئے۔اس مہم میں غطفان کا ایک چرواہا قید کر لیا گیا۔آپ نے مقام محل چند روز قیام فرمایا۔یہاں آپ کو معلوم ہوا کہ خیبر و تیاء کے یہودی، قریش اور دیگر قبائل غطفان بنی محارب، بنی تعلبہ وغیرہ بہت بڑے حملہ کی تیاری میں مشغول ہیں۔آپ نے حضرت عمرو بن امیہ ضمری مہاجر اور ایک انصاری کو مکہ مکرمہ کی طرف روانہ فرمایا تا آمده اطلاعات کے بارے میں یقینی معلومات بہم پہنچائیں اور خود نخل سے مدینہ کو مراجعت فرمائی۔غزوہ دومۃ الجندل ربیع الاول (۴ھ) کا واقعہ ہے۔ربیع الثانی میں آپ مدینہ پہنچے اور یہاں جمادی الاخریٰ کے آخر یا رجب کے شروع میں آپ کو معلوم ہوا کہ ابوسفیان مقام بدر کی طرف کوچ کر رہا ہے تا وہ اپنی اس دھمکی کو عملی جامہ پہنائے جو اس نے میدان اُحد خالی کرتے وقت مَوْعِدُكُمُ الْعَامُ الْمُقْبِلَ بَدْر کے الفاظ میں دی تھی کہ آئندہ سال بدر میں تمہارے ساتھ مقابلہ ہو گا۔قحط شروع ہو چکا تھا ابو سفیان نہیں چاہتا تھا کہ ایسے وقت میں کوچ کیا جائے مگر لوگوں میں اپنا وقار قائم رکھنا چاہتا تھا۔اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کچھ آدمی بھیجے جنہوں نے کچھ ایسی باتیں کیں جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ ابوسفیان بہت بڑا لشکر لا رہا ہے اور انہوں نے ساتھ ہی اس خیال کا بھی اظہار کر دیا کہ ایسے وقت جبکہ قحط پڑا ہوا ہے لڑائی مناسب نہیں۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مشورے کی پرواہ نہیں کی اور مجاہدین کو لے کر بدر پہنچ گئے۔ابوسفیان آپ کی آمد کا سنتے ہی میدان سے چل دیا۔یہ واقعہ شعبان ۴ھ کا ہے اور تاریخ اسلام میں غزوہ بدر الموعد کے نام سے مشہور ہے اسے غزوہ بدر الآخرۃ بھی کہتے ہیں۔یعنی بدر کی دوسری مہم۔آٹھ دن قیام کرنے کے بعد بدر سے (شروع رمضان میں ) مدینہ منورہ لوٹے سے اور اسی رمضان ۴ھ میں احزاب نے مدینہ پر حملہ کرنے کے لئے بڑے جوش و خروش سے تیاری شروع کی اور شوال میں انہوں نے مدینہ منورہ کا محاصرہ کر لیا اور دیکھا کہ ان کے سامنے ایک بہت بڑی خندق حائل ہے جو اتنی چوڑی اور گہری ہے کہ پھلانگی نہیں جاسکتی۔اس واقعہ سے مذکورہ بالا (تاریخ الرسل والملوك للطبري، سنة أربع من الهجرة، ذكر الخبر عن عمر و بن أمية الضمرى إذ وجهه رسول الله لقتل أبي سفيان، جزء ۲ صفحه ۵۴۲) المغازي للواقدی، غزوة دومة الجندل، جزء اول صفحه ۴۰۳،۴۰۲) (السيرة النبوية لابن هشام، غزوة بدر الآخرة، جزء ۳ صفحه ۱۶۰) (الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ بدر الموعد، جزء ۲ صفحه ۵۵)