صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 255
صحيح البخاری جلد ۸ ۲۵۵ ۶۴ - کتاب المغازی کھدائی کا کام بیس روز یا ایک ماہ تک ہو تا رہا۔کہ تکمیل خندق کا یہ اندازہ بھی تقریباً اسی مدت کے مطابق ہے جو احزاب کے حملہ کی مدت ہے۔اس لئے قرین قیاس ہے کہ احزاب نے رمضان میں تیاری کر کے کوچ کیا اور شوال کی کسی تاریخ میں انہوں نے محاصرہ شروع کیا۔غزوہ اُحد سے متعلق بھی یہی بتایا گیا ہے کہ کفار غالبا رمضان کے آخر یا شوال کے شروع میں مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئے تھے اور ان کے سفر کی مدت دس گیارہ دن کی تھی۔غزوۂ احد کے حملہ آوروں کی تعداد غزوہ احزاب کے حملہ آوروں سے بہت کم تھی۔اس لئے غزوہ اُحد میں سفر طے کرنا نسبتاً آسان تھا۔مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان فاصلہ دو سو میل کا ہے۔(فتح الباری، کتاب الحج، شرح باب ۷، جزء ۳ صفحه ۴۸۵) اگر ایک منزل پندرہ میل کی ہو تو یہ فاصلہ عام طور پر تیرہ چودہ دن میں طے کیا جاسکتا ہے لیکن احزاب کے جمع ہونے اور ضروری تیاری کرنے کی وجہ سے قرین قیاس ہے کہ مدینہ تک پہنچنے میں یہ سفر کم از کم تین ہفتے اور زیادہ سے زیادہ ایک ماہ میں ہوا ہو گا۔ساڑھے تین میل لمبی خندق شمال غربی جہت میں اور دو اڑھائی میل متفرق خندقیں غربی اور جنوبی اطراف میں تیار ہوئیں۔کے شمال غربی خندق جو اصل شہر کی پناہ تھی جس کی لمبائی ساڑھے تین میل بتائی جاتی ہے چالیس ذراع ( تقریباً ساٹھ فٹ ) کا ایک ٹکڑا دس آدمیوں کے سپر د کیا گیا تھا۔کے روایات مغازی وغیرہ سے ظاہر ( ہے کہ کم و بیش تین ہزار آدمی بیک وقت مصروف عمل تھا۔ہے۔اس تعداد میں لڑکے بھی شامل ہوں گے کیونکہ کام کرنے والے مہاجرین اور انصار کی تعداد اتنی نہ تھی۔ایک سال قبل جنگ اُحد میں مرد مجاہد سات سو تھے۔کمزور اور بوڑھے ملا کر ان کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ نہ تھی۔ایک سال بعد غزوہ خندق میں قابل جنگ افراد مجاہدین کا اندازہ ہزار ڈیڑھ ہزار سے زیادہ نہیں۔مجاہدین کی تعداد کے بارے میں ابن اسحاق کا بیان کہ وہ تین ہزار تھے اسی صورت میں درست ہو سکتا ہے کہ جب نوجوان بچے شامل کئے جائیں۔ایسے موقع پر بچے اکثر شوق سے کام کرتے ہیں۔غربی اور جنوبی اطراف شہر میں آطام وغیرہ کے ارد گرد خندقیں کھودنے والوں کی تعداد بھی شامل کی جائے تو مغازی کے بیانات بھی درست ثابت ہوتے ہیں کیونکہ بعض افراد نے بھی دیکھا دیکھی اپنے طور پر اپنی جگہیں محفوظ کرنے کے لئے خندقیں کھودنی شروع کر دی تھیں۔ورنہ شہر پناہ کی ساڑھے تین میل لمبی خندق کھودنے کیلئے گیارہ سو آدمی کافی تھے اور یہ ایک ماہ میں بخوبی کھودی جاسکتی تھی۔ابن سعد کا یہ بیان درست نہیں کہ خندق چھ دن میں تیار ہوئی ہے بلکہ اس بارے میں کتاب دستور مدینہ کا بیان ہی درست ہے کہ تین ہفتے میں بڑی خندق مکمل ہوئی (صفحہ ۴۴) اور یہ مدت تقریباً وہی ہے جس میں قریش مکہ سے اور قبائل اطراف سے مدینہ میں پہنچ سکتے تھے۔(شرح الزرقاني على المواهب اللدنية، غزوة الخندق، جزء۳ صفحه ۳۳) (سیرت خاتم النبيين من اللیل کا مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے، جنگ اُحد ، صفحہ ۴۸۳، ۴۸۲) ( المغازى للواقدي، غزوة الخندق، جزء ۲ صفحه ۴۵۱،۴۵۰) المعجم الكبير للطبراني، سلمان الفارسی، جزء ۶ صفحه ۲۱۲، ۲۱۳) ( السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة الخندق، جزء ۳ صفحه ۱۷۲) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ الخندق، جزء ۲ صفحہ ۶۳)