صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 254 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 254

حيح البخاری جلد ۸ ۲۵۴ ۶۴ - کتاب المغازی کب مدینہ کے میدانوں میں پہنچا؟ یہ ایک ضروری سوال ہے جس کے حل سے تکمیل خندق کی مدت اور اس کام میں حصہ لینے والوں کی تعداد معین کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور اس سے لشکر جرار کے حملے کا دفاع و مقابلہ کرنے والوں کی تعداد کا بھی اندازہ ہو سکے گا۔موسیٰ بن عقبہ نے غزوہ خندق کا وقت ماہ شوال اور ابن سعد نے ذوالقعدہ بتایا ہے۔لے قطع نظر اس سے کہ ایک حساب سے وہ ۴ ھ ہے یا دوسرے حساب سے ۵ھ۔مہینہ کے معین ہونے سے ہمیں احزاب کی نقل و حرکت اور خندق کی مدت تکمیل کا اندازہ ہو سکتا ہے۔شوال کے مہینے سے متعلق اکثر مصنفین مغازی کا اتفاق ہے۔امام مالک کی بھی یہی رائے ہے۔ابن اسحاق نے بھی ثقہ راویوں کے اقوال کی بناء پر شوال کے مہینہ ہی کا ذکر کیا ہے۔(فتح الباری جزء ے صفحہ ۴۹۱) علمائے فلکیات نے آخر فروری ۶۲۷ اور شوال ۵ھ کی آپس میں مطابقت دکھائی ہے۔ذوالقعدہ کا مہینہ مارچ کا ہو گا اس وقت بلادِ حجاز میں گرمی شروع ہو جاتی ہے۔صحیح بخاری کی روایت سے ظاہر ہے کہ راتیں سخت خنک تھیں اور شدت سردی کی وجہ سے آدمی کا باہر نکلنا مشکل تھا۔موسم کی یہ حالت مارچ میں نہیں ہوتی۔اس لئے موسیٰ بن عقبہ کے قول ہی کو ترجیح دینی پڑے گی کہ مدینہ کا محاصرہ ماہ شوال کو ہوا جس کے پہلے ماہ رمضان ہے۔احزاب کے پہنچنے سے قبل ساڑھے تین میل لمبی ، پندرہ فٹ چوڑی اور انتہائی گہری خندق تیار ہو چکی تھی۔کے خندق کی تکمیل کا عرصہ زیادہ سے زیادہ ایک مہینہ بتایا گیا ہے۔بعض مورخین نے لکھا ہے کہ خندق کی تیاری ۸ ذوالقعدہ کو شروع ہوئی۔اس بیان کو درست تسلیم کرنے کے یہ معنی ہیں کہ وہ اپریل میں مکمل ہوئی اور دشمن نے مدینہ کا محاصرہ اپریل کے آخر میں کیا اور اگر یہ محاصرہ ایک ماہ رہا ہو تو مئی کے مہینے تک محاصرہ احزاب تسلیم کرنا پڑے گا جو ٹھنڈا موسم نہیں بلکہ گرمی کا مہینہ ہے اس لئے یہ بیان قطعا درست نہیں۔موسیٰ بن عقبہ کاہی بیان صحیح اور قرین قیاس ہے۔رسل و رسائل کے ذریعہ سے مختلف قبائل کی تیاری، پندرہ بیس ہزار فوج کے سامان رسد کی فراہمی اور اسلحہ وغیرہ سے آراستگی کافی وقت چاہتی ہے۔مر الظہران سے مدینہ تک سفر معمولی حالات میں پندرہ بیس دن سے کم کا نہیں۔فوج کشی میں بار برداری، خوراک و آب رسانی وغیرہ کا انتظام رفتار سفر کم کر دیتا ہے۔احزاب کم و بیش ایک ماہ میں مدینہ پہنچے ہوں گے۔تکمیل خندق کی مدت بھی زیادہ سے زیادہ ایک ماہ بتائی گئی ہے۔بعض روایات میں یہ بھی آیا ہے کہ الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ الخندق، جزء ۲ صفحه ۶۲) السيرة النبوية لابن هشام، غزوة الخندق، جزء ۳ صفحه (۱۶۵) ( التوفيقات الالهامية فى مقارنة التواريخ الهجرية، سنة هجرية، جزء اول صفحه ۳۷) أطلس السيرة النبوية للدكتور الشوق ابی خلیل خندق، صفحه ۱۳۷) (مرويات الامام الزهرى فى المغازي، غزوة الخندق، المبحث الثالث، جزء اول حاشیه صفحه ۴۹۵ (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية، غزوة الخندق، جزء ۳ صفحه ۳۳) (سیرت النبی صل ا ولم علامہ شبلی نعمانی، غزوة احزاب، جلد اول صفحه (۲۴۱)