صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 253
حيح البخاری جلد ۸ ۲۵۳ ۶۴ - کتاب المغازی غزوہ خندق کے اسباب میں سے اول سبب تو دراصل مشرکین عرب کی اسلام دشمنی ہے اور دوسرا سبب جذبہ انتقام ہے جو بجائے کم ہونے کے اس شدت سے بھڑک اُٹھا کہ تقریباً تمام قبائل عرب اسلام اور مسلمانوں کے مٹانے کے لئے متحد ہو گئے۔جیسا کہ اس غزوہ کے دوسرے نام احزاب سے ظاہر ہے اور جیسا کہ کتب مغازی میں مروی ہے کہ خیبر اور تیماء کے یہودی قبائل زیر قیادت حیی بن اخطب سردار بنی نضیر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اشتعال انگیزی میں پیش پیش تھے۔امام ابن حجر نے مغازی موسیٰ بن عقبہ کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ حیی بن اخطب نے مکہ مکرمہ میں جاکر قریش مکہ کو اور ابوالحقیق کے پوتے کنانہ بن ربیع نے قبائل بنی غطفان میں چکر لگا کر انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف اکسایا اور ان سے خیبر کے نخلستانوں کی نصف پیداوار دینے کا معاہدہ طے ہوا بشر طیکہ وہ مدینہ پر چڑھائی کریں۔چنانچہ عیینہ بن حصن فراری نے اپنے حلیف قبیلہ بنی اسد کو لکھا۔جس پر اس کا سردار طلحہ بن خویلد اپنا لشکر لے کر آگیا۔ادھر سے ابو سفیان بن حرب قریش کو لے کر بمقام مر الظہران پہنچ گیا اور اطراف نجد سے قبائل بنی سلیم بھی ان کی مدد کو آگئے۔اس طرح ایک بہت بڑا لشکر اکٹھا ہو گیا جس کی تعداد بقول ابن اسحاق دس ہزار تھی۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۴۹۱) یہ اندازہ کم از کم ہے۔موسیٰ بن عقبہ اور محمد بن اسحاق دونوں کا بیان اس امر میں ایک ہی ہے کہ خیبر کے یہودیوں نے اس فوج کشی کی تیاری میں بہت بڑا حصہ لیا۔اس بارے میں ابن اسحاق کے الفاظ یہ ہیں: وَهُمُ الَّذِينَ حَزَبُوا الْأَحْزَابَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجُوا حَتَّى قَدِمُوا عَلَى قُرَيْشِ مَكَّةَ فَدَعَوْهُمْ إِلَى حَرْبٍ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالُوا إِنَّا سَتَكُونَ مَعَكُمْ عَلَيْهِ حَتَّى نَسْتَأْ صِلَه۔۔۔یعنی حيى بن اخطب، سلام بن ابی الحقیق نفری، کنانہ بن ربیع بن ابی الحقیق وغیرہ عمائدین یہود ہی نے قریش وغیرہ کے جتھوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تیار کیا تا آپ کا بکلی استیصال کر دیا جائے۔ابن سعد کا بھی یہی بیان ہے اور لکھا ہے کہ بنو نضیر کے سردار و عمائد مکہ میں قریش کے پاس گئے اور انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کے لئے تیار کیا۔پھر وہ قبائل غطفان وسلیم کے پاس پہنچے اور ان سے یہی طے کیا۔قریش نے اپنے حلیفوں اور اپنے تابع حبشیوں اور عربی قبیلوں میں سے چار ہزار کا لشکر اکٹھا کیا اور دارالندوہ میں علم عثمان بن طلحہ کے سپرد کیا اور مقام مر الظہران میں قبیلہ بنی سلیم کے سات سو جنگجو ان سے آملے۔اسی طرح قبائل بنی اسد، فزارہ، انجمع اور بنو مرہ وغیرہ کے لشکر بھی۔ابن سعد نے ہر لشکر کی تعداد کا ذکر کیا ہے اور صرف قبائلی لشکروں کی تعداد دس ہزار بتائی ہے۔سے زیادہ سے زیادہ تعداد جو بیان کی گئی ہے وہ چوبیس ہزار بیان کی گئی ہے۔سیرت خاتم النبيين على اللام ( مصنفہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے) میں پندرہ ہزار النہ بھی لکھی ہے جو ابن سعد کے بیان کی رو سے ایک محتاط اندازہ ہے۔اس لشکر جرار نے کوچ کی کب تیاری کی اور ( السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة الخندق، جزء ۳ صفحه (۱۶۶) p الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله الخندق، جزء ۲ صفحه ۶۲) (سیرت خاتم النبيين على الم و کم مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے، جنگ احزاب، صفحہ ۵۷۴) من