صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 20
صحيح البخاری جلد ۸ ۲۰ ۶۴ - کتاب المغازی سورۃ البقرہ میں جو ابتدائی مدنی سورتوں میں سے ہے یہ بتایا گیا ہے کہ عہد قدیم کی پیش گوئیوں کے مطابق ایک ایسی جنگ کے ذریعہ دشمن کا خاتمہ کر دیا جائے گا جس میں طالوت کی سی جنگ کا نمونہ ہو گا اور ایک قلیل التعداد فوج کثیر التعداد فوج پر غالب آئے گی۔(البقرة : ۲۴۷ تا ۲۵۳) پھر سورۃ البقرہ کے دوسرے رکوع میں ایک آگ بھڑ گائے جانے کا ذکر ہے۔اس سے اس آتش جنگ کی طرف اشارہ ہے جو آنحضرت صلی ال نیم کے خلاف بھڑکائی جانے والی تھی۔پھر سورۃ البقرہ کے تیسرے رکوع میں آگ بھڑ کانے والوں کے انجام کی پیشگوئی ہے کہ وہ اور ان کے پتھروں سے بنے ہوئے بت جن کی وہ پوجا کرتے تھے سب اس آگ میں بھسم ہو جائیں گے۔اس پیش گوئی کا ذکر عہد نامہ قدیم کے نوشتوں میں بھی موجود ہے اور جنگ بدر کے ذکر میں ویرِیدُ اللهُ أَنْ يُحِقَّ الْحَقِّ بِكَلِمَتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الكَفِرِينَ (الأنفال: ۸) کے الفاظ میں قرآنِ مجید میں عہد نامہ قدیم کی پیشگوئی کا اعادہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ تھا کہ مسلمانوں کا کفار سے مقابلہ ہو اور قیدار کی حشمت والی پیشگوئی کے مطابق قریش کی حشمت جاتی رہے اور حق کا بول بالا ہو۔یہ واضح پیش گوئی اور الہی مشیت آنحضرت صلی للہ ہم سے مخفی نہ تھی۔اس لئے آپ نے ابو سفیان کے تجارتی قافلے کی بجائے مسلح فوج کا قصد کیا۔یسعیاہ نبی کی پیشگوئی بعنوان ”عرب کی بابت الہامی کلام میں صراحت ہے کہ نبی معہود کی ہجرت پر مزدور کے برسوں کے مطابق ایک برس کے اندر قیدار ( قریش) کی ساری حشمت جاتی رہے گی۔اور تیر اندازوں کی تعداد کا بقیہ یعنی بنی قیدار کے بہادر لوگ گھٹ جائیں گے۔(یسعیاہ باب ۲۱: ۱۳ تا ۱۷) اس پیشگوئی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت مکہ کے ایک سال بعد جو جنگ بدر کفار قریش سے ہوئی اس کا ذکر کیا گیا ہے۔اس میں بنو قیدار یعنی مکہ اور مکہ کے ارد گرد رہنے والے لوگ بہت بُری طرح مسلمانوں سے ہارے اور ان کی تلواروں اور کمانوں کی تاب نہ لا کر نہایت ذلت سے پسپا ہوئے۔عہد نامہ قدیم کی پیشگوئیوں کی تفصیل کے لئے دیکھئے دیباچہ تفسیر القرآن، زیر عنوان: بائبل میں قرآن مجید کے ظہور اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے متعلق پیشگوئیاں ، صفحہ ۶۵ تا ۱۰۳۔اس عظیم الشان پیشگوئی کے پیش نظر سورۃ البقرہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا گیا ہے : وَمِنْ حَيْثُ خرجت فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ إِنَّهُ لَلْحَقِّ مِنْ رَّبِّكَ وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ، وَ حَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَةً لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَيْكُمْ حُجَّةً (البقرة:۱۵۱،۱۵۰)۔یعنی مذکورہ بالا پیشگوئی اٹل ہے۔اس لئے جب بھی اور جہاں سے بھی جنگ کے لئے ا ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ” اور جہاں کہیں سے بھی تو نکلے اپنی توجہ مسجد حرام کی طرف پھیر اور یقیناوہ تیرے رب کی طرف سے حق ہے اور اللہ اس سے غافل نہیں جو تم کرتے ہو۔اور جہاں کہیں سے بھی تو نکلے، اپنی توجہ مسجد حرام ہی کی طرف پھیر۔اور جہاں کہیں بھی تم ہو ، اس کی جانب اپنی توجہ پھیرو تاکہ لوگوں کے لئے تمہارے خلاف کوئی حجت نہ بنے۔“