صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 19 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 19

۶۴ - کتاب المغازی صحیح البخاری جلد ۸ هُوَ الْحَقَّ وَأَعْطَيْنَاكَ عَلَى ذَلِكَ عُهُودَنَا وَمَوَاثِيْقَنَا عَلَى السَّبْعِ وَالطَاعَةِ فَاضِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَا أَرَدْتَ فَنَحْنُ مَعَكَ فَوَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَوِ اسْتَعْرَضُتَ بِنَا هَذَا الْبَحْرَ فَخُفْتَهُ لَخَفْنَاهُ مَعَكَ مَا تَخَلَّف مِنَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ وَ مَا نَكْرَهُ أَن تَلْقَى بِنَا عَدُونَا غَدًا إِنَّا لَصُبُرُ فِي الْحَرْبِ صُدِّقُ فِي النِّقَاءِ لَعَلَّ اللَّه يُرِيْكَ مِنَّا مَا تَقَرُّ بِهِ عَيْنُكَ، فَسِرُ بِنَا عَلَى بَرَكَةِ اللهِ ، اس عربی تقریر کا ترجمہ یہ ہے کہ حضرت سعد بن معاذ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ اللہ کی قسم! ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا رُوئے سخن ہم سے ہے اور جنگ کے بارے میں آپ ہماری رائے معلوم کرنا چاہتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔تب حضرت سعد نے کہا: ہم آپ پر ایمان لے آئے ہیں اور آپ کو سچا یقین کیا ہے اور ہم نے دیکھ لیا ہے کہ جو تعلیم آپ لے کر آئے ہیں وہ حق ہے اور ہم اس پر اپنے پختہ عہد اور اقرار دے چکے ہیں کہ ہم آپ کی بات سنیں گے اور اطاعت کریں گے۔اس لئے یا رسول اللہ ! جو آپ نے ارادہ فرمایا ہے ، اُسے کر گزریئے۔ہم آپ کے ساتھ ہیں اور اس ذات کی قسم ہے جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے اگر آپ ہمیں اس سمندر میں داخل ہونے کے لئے فرمائیں تو ہم آپ کے ساتھ اس میں داخل ہو جائیں گے اور ہم میں سے ایک بھی پیچھے نہیں رہے گا اور ہمیں ناگوار نہیں کہ کل اپنے دشمن سے ہمارا مقابلہ ہو۔ہم جنگ میں بہت صبر کرنے والے اور دشمن کے مقابلے میں بہت ثابت قدم رہنے والے ہیں۔اللہ سے امید ہے کہ ہم سے وہ کارنامے دکھائے گا جن سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں گی۔سو آپ اللہ کی برکت پر بھروسہ رکھتے ہوئے ہمیں (میدانِ جنگ کی طرف) لے چلیں۔ابن ہشام نے بروایت محمد بن اسحاق - حضرت مقداد بن اسود کے وہ قابل رشک الفاظ بھی درج کئے ہیں جو انہوں نے اس وقت عرض کئے تھے۔ان کا ذکر روایت نمبر ۳۹۵۲ میں بھی آرہا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے مہاجرین میں سے حضرت ابو بکر حضرت عمر اور حضرت مقداد سے رائے دریافت کی تھی۔جس پر حضرت مقداڈ نے مہاجرین کی طرف سے نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ یا رسول اللہ ! ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی اور آگے بھی اور پیچھے بھی اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا تا وقتیکہ وہ ہمیں روند نہ ڈالے ، ہم موسیٰ کی قوم کی طرح نہیں ہیں جنہوں نے یہ کہہ دیا تھا کہ اے موسیٰ ! جاؤ تم اور تمہارا رب لڑتے پھر وہ ہم تمہارا ساتھ نہیں دے سکتے۔غرض یہ پہلا موقع تھا کہ آپ نے کھل کر اپنی رائے ظاہر فرمائی کہ مقابلہ مسلح فوج سے ہو گا۔اس سے قبل آپ نے پوری راز داری کے ساتھ مدینہ سے کوچ کیا اور وادی ذفران میں پہنچ کر اس کا انکشاف کیا کہ مسلمانوں کی جنگ مسلح قریش سے ہو گی۔اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مشیت الہی سے واقف تھے اور حضرت مقداد کے الفاظ يَا رَسُولَ اللهِ امْضِ لِمَا اراك الله - اسی امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو وحی الہی کے ذریعہ سے آپ پر آشکار ہو چکا تھا۔(السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة بدر الكبرى، استشارة الأنصار، جزء ۲ صفحه ۲۵۸) ( السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة بدر الكبرى، الطريق إلى بدر ، جزء ۲ صفحه ۲۵۷)