صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 252
صحيح البخاری جلد ۸ ۲۵۲ ۶۴ - کتاب المغازی غزوات نبویہ سے متعلق مغازی کے نام سے مستند کتاب تصنیف کی تھی۔یہ اور محمد بن اسحاق دونوں امام زہری کے ممتاز شاگردوں میں سے ہیں اور دونوں کی کتابیں اس فن میں خاص شہرت رکھتی ہیں۔موسیٰ بن عقبہ کا پایہ اتنا بلند ہے کہ مغازی میں وہ ثقہ تسلیم کئے گئے ہیں۔انہوں نے صحت روایات کا خاص التزام کیا اور رطب و یابس میں فرق ملحوظ رکھا ہے۔امام مالک ان کے شاگرد ہیں۔(تہذیب التہذیب للعسقلانی ، ذکر موسی بن عقبة، جزء ۱۰ صفحه ۳۶۰) موسیٰ بن عقبہ کی کتاب مغازی اب موجود نہیں۔ایک عرصہ تک متداول رہی اور مصنفین مغازی و مؤرخین نے اس سے بڑا فائدہ اُٹھایا ہے۔امام ابن حجر کے بیان سے ظاہر ہے کہ یہ کتاب ان کے مطالعہ سے بھی گزری ہے۔غزوہ احزاب کی تاریخ وقوع سے متعلق موسیٰ بن عقبہ کا قول ایسا نہیں کہ نظر انداز کر دیا جائے، خصوصاً جبکہ حضرت عبد اللہ بن عمر کی روایت ان کی تائید کرتی ہے۔امام مالک اور امام احمد بن حنبل نے موسیٰ بن عقبہ کے قول کو ترجیح دی ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۴۹۱) بخلاف جمہور کے جنہوں نے ابن اسحاق و ابن سعد وغیرہ کا تتبع کیا ہے۔ان کے نزدیک ۵ھ میں غزوہ خندق ہوا۔امام ابن حجر نے امام بیہقی کے حوالے سے اس اختلاف کا حل کیا ہے کہ تاریخ کا مذکورہ بالا فرق دراصل اس لئے ہے کہ ایک نے ہجرت کا زمانہ محرم سے محرم تک شمار کیا ہے مثلاً غزوہ بدر رمضان میں ہوا تو بعض نے محرم کا آغاز مد نظر رکھتے ہوئے اسے پہلا سال ہجرت محسوب کیا ہے اور ما قبل چند مہینے نظر انداز کر دیئے ہیں جیسا کہ یعقوب بن سفیان نے اپنی تاریخ میں اسی حساب سے غزوہ احد کا وقوع ہجرت کے دوسرے سال میں اور غزوہ خندق کا وقوع چوتھے سال میں قرار دیا ہے۔(فتح الباری جزء صفحہ ۴۹۱) لیکن جنہوں نے یہ طریق ملحوظ نہیں رکھا بلکہ اصل عرصہ ہجرت ملحوظ رکھا ہے انہوں نے غزوہ خندق کا وقوع پانچویں سال شوال یا ذوالقعدہ میں بیان کیا ہے۔اس طرح دو تین مہینوں کے فرق سے سال ہجری کی گنتی میں فرق نہیں آنے دیا۔غزوہ بدر کی تاریخ اھ قرار دینے والوں نے سن ہجری محرم سے شمار کیا ہے اور ۲ھ قرار دینے والوں نے اس سے پہلے رمضان، شوال اور ذوالقعدہ کے تین مہینے محسوب کئے ہیں۔تاریخوں کی تعیین میں اس قسم کا فرق نظر انداز کر دینے کے لائق ہے۔جمہور نے سن ہجری کا شمار محرم تا محرم کر کے چند مہینوں کا فرق چھوڑ دیا ہے۔ابن سعد بالعموم مہینوں اور دنوں کی گنتی کا ذکر کرتے ہیں۔مثلاً لکھا ہے کہ حضرت مرثد غنوی کی قیادت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے چھتیسویں ماہ کے شروع میں رجیع کی طرف ایک دستہ فوج بھیجا گیا اور انہوں نے صفر کے مہینہ کا بھی ذکر کیا ہے۔یہ تین سال کی مدت ہوتی ہے لیکن محرم سے محرم تک سن ہجری شمار کرنے والوں کے نزدیک ۴ھ ہو گا، نہ ۳ھ۔یہی فرق غزوہ خندق کی تاریخ کا ذکر کرنے والوں کے بیانات میں بھی ہوا ہے۔3 امام بخاری نے بحوالہ موسیٰ بن عقبہ و حضرت ابن عمر چار سال کی مدت ملحوظ رکھی ہے جو دیگر مصنفین مغازی اور جمہور کے نزدیک ۵ھ ہے۔یہ فرق تفصیل سے اس لئے بیان کیا گیا ہے کہ آئندہ بھی غزوات کی تاریخوں سے متعلق اس قسم کے اختلاف کا ذکر آئے گا۔وہاں بھی یہی حسابی فرق ملحوظ رکھا جائے۔الطبقات الكبرى لابن سعد، سرية مرثد بن أبي مرثد، جزء ۲ صفحه (۵۱)