صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 251 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 251

صحيح البخاری جلد ۸ ۲۵۱ ۶۴ - کتاب المغازی آبِبُوْنَ تَائِبُوْنَ عَابِدُونَ سَاجِدُونَ ہم لوٹ کر آرہے ہیں، اسی کی طرف متوجہ ہونے لِرَبِّنَا حَامِدُوْنَ صَدَقَ اللهُ وَعْدَهُ والے، اپنے ربّ ہی کی عبادت کرنے والے، وَنَصَرَ عَبْدَهُ وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ اپنے رب ہی کو سجدہ کرنے والے ، اپنے رب ہی کی ستائش کرنے والے ہیں، اللہ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور اپنے بندہ کی مدد فرمائی اور تمام احزاب کو اکیلے ہی شکست دے کر بھگا دیا۔اطرافه: ۱۷۹۷ : ۲۹۹۵، ۳۰۸۴: ۶۳۸۵- غَزْوَةُ الْخَنْدَقِ وَهِيَ الْأَحْزَابِ : غزوۂ خندق کا دوسرا نام غزوہ احزاب ہے۔مدینہ پر کفار مکہ کا یہ تیسرا اور آخری حملہ ہے۔اس میں انہوں نے جس شد و مد سے تیاری اور چڑھائی کی، اسی شد و مد سے آسمانی طاقتوں نے انہیں سرنگوں کر دیا۔پہلی دو جنگوں ( بدر اور اُحد) میں اُن کی کوشش تھی کہ مدینہ کے اندر داخل ہو کر اہل مدینہ سے جنگ کریں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں دفعہ انہیں مدینہ کے باہر کھلے میدان میں لڑائی پر مجبور کر دیا اور آپ نے اس تیسری جنگ میں بھی ایسی تدبیر اختیار کی جس سے کفار کے تمام لشکر بار بار کوشش کے باوجود مدینہ میں داخل ہونے سے محروم رہے۔کفار کی فوجیں پہنچنے سے پہلے مدینہ کے ان اطراف میں جہاں سے دشمن داخل ہو سکتا تھا، پندرہ فٹ چوڑی اور دس فٹ گہری خندق تیار ہو چکی تھی۔اے جس کی وجہ سے وہ کھلے میدانوں میں رُکنے پر مجبور ہو گئے اور اسی خندق کی بناء پر اس تیسرے حملے کا نام خندق مشہور ہے اور اس کا نام غزوہ احزاب ان مشرک قبائل مضر کے شریک جنگ ہونے کی وجہ سے رکھا گیا جن کا ذکر سابقہ باب کی تشریح میں گزر چکا ہے۔حزب کے معنی ہیں جتھا اور تحزب کے معنی ہیں جتھہ بندی۔سورۃ الاحزاب میں قبائل عرب کے اسی حملے کا ذکر ہے۔عنوانِ باب میں موسیٰ بن عقبہ کے قول کا حوالہ دیا گیا ہے کہ یہ غزوہ شوال ۴ھ میں ہوا تھا اور ان کی تائید میں باب کی پہلی روایت (نمبر ۴۰۹۷) سے جو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے نقل کیا ہے کہ جنگ اُحد کے وقت ان کی عمر چودہ سال تھی جس کی وجہ سے انہیں جنگ میں شامل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی اور غزوہ خندق کے وقت وہ پندرہ سال کے تھے اور انہیں جنگ میں شریک ہونے کی اجازت ہو گئی۔ظاہر ہے کہ غزوہ اُحد ۱۵ شوال ۳ھ کو ہوا تھا اور حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے بیان کی رو سے غزوہ احزاب کی تاریخ وقوع شوال ۴ھ متعین ہوتی ہے۔سیرت ابن ہشام اور طبقات ابن سعد دونوں میں غزوہ احزاب کی تاریخ ۵ ھ بیان کی گئی ہے۔کے ایک نے شوال اور دوسرے نے ذوالقعدہ کے مہینہ میں کفار کی اس چڑھائی کا ذکر کیا ہے۔موسیٰ بن عقبہ پہلے مصنف ہیں جنہوں نے مرويات الامام الزهرى فى المغازى، غزوة الخندق، المبحث الثالث، جزء اول حاشیه صفحه (۴۹۵ (أطلس السيرة النبوية للدكتور الشوقى ابی خلیل خندق، صفحہ ۱۳۷) (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة الخندق، جزء ۳ صفحه ۱۶۵) (الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ الخندق، جزء ۲ صفحه ۶۲)