صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 249
صحيح البخاری جلد ۸ ۲۴۹ ۶۴ - کتاب المغازی مَا صَلَّيْتُهَا فَنَزَلْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ قسم! میں نے بھی تو نماز نہیں پڑھی ہے پھر ہم نبی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُطْحَانَ فَتَوَضَّأَ لِلصَّلَاةِ صلى الله علیہ وسلم کے ساتھ (وادی) بطحان میں وَتَوَضَّأْنَا لَهَا فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا گئے۔آپ نے نماز کے لئے وضو کیا اور ہم نے غَرَبَتِ الشَّمْسُ ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا بھی وضو کیا۔آپ نے عصر پڑھائی جبکہ سورج غروب ہو چکا تھا پھر اس کے بعد مغرب پڑھائی۔الْمَغْرِبَ۔اطرافه ۵۹۶، ۵۹۸، ۶۴۱، ۹۴۵- ٤١١٣ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ :۲۱۱۳: محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ (ثوری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے (محمد) بن منکدر سَمِعْتُ جَابِرًا يَقُوْلُ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ہے۔انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر سے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ سنا۔کہتے تھے : رسول اللہ صلی الی یم نے جنگ احزاب مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ فَقَالَ الزُّبَيْرُ میں فرمایا: ہمارے پاس ان لوگوں کی خبر کون لائے أَنَا ثُمَّ قَالَ مَنْ يَّأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ گا؟ حضرت زبیر بن عوائم) نے کہا: میں۔پھر فَقَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا ثُمَّ قَالَ مَنْ يَأْتِينَا آپ نے فرمایا: ہمارے پاس ان لوگوں کی خبر کون لائے گا؟ حضرت زبیر نے کہا: میں۔آپ نے بِخَبَرِ الْقَوْمِ فَقَالَ الزُّبَيْرُ أَنَا ثُمَّ قَالَ تھوڑی دیر بعد پھر فرمایا: ہمارے پاس ان لوگوں إِنَّ لِكُلِ نَبِيَّ حَوَارِيًّا وَإِنَّ حَوَارِي کی خبر کون لائے گا؟ حضرت زبیر نے پھر کہا: الزُّبَيْرُ۔اطرافه ،۲۸۴۶، ۲۸۴۷، ۲۹۹۷: ۳۷۱۹، ۷۲۶۱۔میں۔آپ نے فرمایا: ہر نبی کا ایک حواری ہوتا رض ہے اور میرا حواری زبیر ہے۔٤١١٤: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ :۴۱۱۴: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ لیث حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ سَعِيْدِ بْن أَبِي سَعِيدٍ ( بن سعد) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے سعید بن عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الى سعید سے، سعید نے اپنے باپ سے، انہوں ابی أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ یہ الفاظ فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہیں (فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۵۰۶) ترجمہ ان کے مطابق ہے۔