صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 247
صحيح البخاری جلد ۸ ۲۴۷ ۶۴ - کتاب المغازی حُبْوَتِي وَهَمَمْتُ أَنْ أَقُولَ أَحَقُّ بِهَذَا ہیں۔حبیب بن مسلمہ نے (حضرت عبد اللہ بن عمر الْأَمْرِ مِنْكَ مَنْ قَاتَلَكَ وَأَبَاكَ عَلَى سے پوچھا کہ آپ نے انہیں جواب کیوں نہیں دیا؟ الْإِسْلَامِ فَخَشِيْتُ أَنْ أَقُولَ كَلِمَةً حضرت عبد اللہ بن عمر ) نے کہا: میں نے قصد تو کیا تھا اور یہ کہنے لگا تھا کہ اس امر کے تم سے زیادہ تُفَرِّقُ بَيْنَ الْجَمْعِ وَتَسْفِكُ الدَّمَ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَنَوْسَاتُهَا۔حق دار وہ ہیں جنہوں نے اسلام کی خاطر تم سے وَيُحْمَلُ عَنِّي غَيْرُ ذَلِكَ فَذَكَرْتُ مَا اور تمہارے باپ سے لڑائی کی مگر میں ڈر گیا أَعَدَّ اللهُ فِى الْجِنَانِ قَالَ حَبِيْب کہیں ایسی بات نہ کہہ دوں جو جماعت میں پھوٹ حُفِظْتَ وَعُصِمْتَ۔قَالَ مَحْمُودٌ عَنْ ڈال دے اور خونریزی کا موجب ہو اور میرا مشورہ کچھ اور نہ سمجھ لیا جائے اور میں نے وہ نعمتیں یاد کیں جو اللہ نے جنتوں میں تیار کر رکھی ہیں۔حبیب نے کہا: آپ محفوظ رہے اور بچائے گئے۔یہ روایت محمود بن غیلان) نے بھی عبد الرزاق سے نقل کی ہے۔اس میں نَسُوَاتُھا کی جگہ نَوْسَا تھا ہے۔٤١٠٩ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا :۴۱۰۹: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان نے سُفْيَانُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ سُلَيْمَانَ ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو اسحاق (سبیعی) سے، بْنِ صُرَدٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله ابو اسحاق نے حضرت سلیمان بن مرد سے روایت عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ نَغْزُوهُمْ کی۔وہ کہتے تھے بی سی ای ایم نے جنگ احزاب کے وَلَا يَغْرُونَنَا۔طرفه: ۴۱۱۰۔دن فرمایا: (اس کے بعد ) ہم ان پر حملہ آور ہوں گے اور وہ ہم پر حملہ نہیں کر سکیں گے۔٤١١٠: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ :۴۱۱۰: عبد الله بن محمد (مسندی) نے مجھ سے بیان حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ کیا کہ يحيی بن آدم نے ہمیں بتایا۔اسرائیل (بن سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يَقُوْلُ سَمِعْتُ یونس نے ہم سے بیان کیا کہ میں نے ابو اسحاق سُلَيْمَانَ بْنَ صُرَدٍ يَقُوْلُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ سے سنا کہتے تھے : میں نے حضرت سلیمان بن صرد صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ حِيْنَ أَجْلَی سے سنا۔وہ کہتے تھے : جب احزاب میدان سے