صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 246
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۴۶ ۶۴ - کتاب المغازی هُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ أَبِيْهِ روایت کی جو عبداللہ بن دینار کے بیٹے ہیں۔أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی کہ حضرت أَوَّلُ يَوْمٍ شَهِدْتُهُ يَوْمُ الْخَنْدَقِ۔ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے تھے کہ پہلی جنگ جس میں میں شریک ہوا، جنگ خندق تھی۔حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى :۴۱۰۸ ابراہیم بن موسیٰ نے مجھ سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ مَّعْمَرٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ ہشام نے ہمیں بتایا۔انہوں نے معمر سے ، معمر نے عَنْ سَالِمٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ زہری سے ، زہری نے سالم (بن عبد اللہ بن عمر) سے، سالم نے حضرت ابن عمر سے روایت کی۔قَالَ وَأَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ عِكْرِمَةَ اور معمر نے کہا: (عبد اللہ ) ابن طاؤس نے بھی مجھے بْنِ خَالِدٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ دَخَلْتُ بتایا۔انہوں نے عکرمہ بن خالد سے، عکرمہ نے عَلَى حَفْصَةَ وَنَسْوَاتُهَا تَنْطُفُ قُلْتُ حضرت (عبد اللہ ) ابن عمر سے روایت کی انہوں نے کہا: میں (اپنی بہن) حضرت حفصہ کے پاس قَدْ كَانَ مِنْ أَمْرِ النَّاسِ مَا تَرَيْنَ فَلَمْ گیا اور ان کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا۔میں نے يُجْعَلْ لِي مِنَ الْأَمْرِ شَيْءٌ قَالَتْ کہا: لوگوں نے جو کیا ہے وہ آپ دیکھ رہی ہیں، میرا دیکھ الْحَقِّ فَإِنَّهُمْ يَنْتَظِرُوْنَكَ وَأَخْشَى أَنْ تو اس امر میں کچھ اختیار نہیں۔حضرت حفصہ يَكُوْنَ فِي احْتِبَاسِكَ عَنْهُمْ فُرْقَةٌ کہنے لگیں: جاؤ ان لوگوں سے ملو، وہ آپ کا فَلَمْ تَدَعْهُ حَتَّى ذَهَبَ فَلَمَّا تَفَرَّقَ انتظار کر رہے ہیں اور مجھے اندیشہ ہے کہ آپ النَّاسُ خَطَبَ مُعَاوِيَةُ قَالَ مَنْ كَانَ کے رُکے رہنے کی وجہ سے پھوٹ نہ پڑ جائے۔حضرت حفصہ انہیں سمجھاتی رہیں یہاں تک کہ وہ يُرِيْدُ أَنْ يَّتَكَلَّمَ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَلْيُطْلِعْ چلے گئے۔جب لوگ منتشر ہو گئے تو حضرت معاویہ لَنَا قَرْنَهُ فَلَنَحْنُ أَحَقُّ بِهِ مِنْهُ} نے لوگوں سے خطاب کیا کہ جو شخص اس خلافت وَمِنْ أَبِيْهِ قَالَ حَبِيبُ بْنُ مَسْلَمَةَ کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہو تو وہ اُٹھے ہم اس فَهَلًا أَجَبْتَهُ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَحَلَلْتُ سے اور اس کے باپ سے زیادہ خلافت کے مستحق لفظ مينة فتح الباری مطبوعہ بولاق کے مطابق ہے (فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۵۰۳) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔رض