صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 18
صحيح البخاری جلد ۸ IA ۶۴- کتاب المغازی مراد ہے کہ آنحضرت ملا ہم نے قبل از وقت یہ اعلان نہیں فرمایا تھا کہ آپ کا مقصود تجارتی قافلہ ہے اور نہ دشمن کو جو شام سے آنے والے قافلے کی حفاظت کے نام پر مکہ مکرمہ سے نکلا تھا، اسلامی دستور جنگ کے مطابق اطلاع دی گئی تھی کہ ان سے فلاں وقت اور فلاں مقام پر مقابلہ کیا جائے گا۔حضرت کعب کا یہ بیان اس قیاس کی ترجمانی کرتا ہے جو کوچ کے وقت صحابہ کا تھا۔سب سے پہلے آنحضرت صلی اللہ ہم نے جنگ کے متعلق اپنے ارادے کا جو اظہار فرمایا وہ ، وادی ذفران میں تھا اور وہیں صحابہ کرام کی رائے حاصل کی۔وادی ذفران بدر سے ایک منزل کے فاصلے پر ہے۔إلى خيبر وتبوك والشام وادي العقيق و ذو الحليفة أمراء حمراء الاسد إلى مكة وادى الصفراء إلى مكة ساحلی تجارتی راسته کشادہ پہاڑی راستہ تنگ پہاڑی راستہ العدوة الدنيا العدوة القصوى إلى مكة 60 km إلى مكة إلى الشام بیعت عقبہ ثانیہ میں انصار مدینہ نے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کی ذمہ داری لی تھی تو اس میں اس امر کی صراحت تھی کہ اگر دشمن نے مدینہ پر حملہ کیا تو وہ آپ کی حفاظت کریں گے لیکن صورت پیش آمدہ جنگ مدینہ سے باہر ہونے والی تھی اس لئے ضروری تھا کہ آپ صحابہ کرام کو صورتحال سے مطلع فرما دیتے اور جنگ کے بارے میں ان کا مشورہ لیتے۔چنانچہ آپ نے صحابہ کے سامنے سب صورت حال پیش کر دی اور ان کی رائے طلب فرمائی اور تین بار اپنی بات کا اعادہ فرمایا۔اس پر حضرت سعد بن معاذ اوس قبیلہ کے سردار کھڑے ہوئے اور کہا: وَاللهِ لَكَأَنَّكَ تُرِيدُنَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ اَجَلُ - قَالَ : فَقَدْ َامَنَّا بِكَ وَصَدَّقْنَاكَ وَشَهِدْنَا أَنَّمَا جِئْتَ بِهِ