صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 241 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 241

صحیح البخاری جلد ۸ ۲۴۱ ۶۴ - کتاب المغازی وَرَجُلٌ أَوْ رَجُلَانِ قَالَ كَمْ هُوَ اور ایک یا دو آدمی ساتھ لے لیں۔آپ نے فَذَكَرْتُ لَهُ قَالَ كَثِيرٌ طَيِّبٌ قَالَ قُلْ پوچھا: کھانا کتنا ہے ؟ میں نے آپ سے بیان کیا۔لَهَا لَا تَنْزِعِ الْبُرْمَةَ وَلَا الْخُبْزَ مِنَ آپ نے فرمایا: بہت ہے اور اچھا ہے۔پھر آپ نے فرمایا: اپنی بیوی سے کہو ہانڈی نہ اُتارے اور التَّنُّوْرِ حَتَّى آتِيَ فَقَالَ قُوْمُوْا فَقَامَ نہ روٹی تنور سے نکالے جب تک کہ میں نہ الْمُهَاجِرُوْنَ وَالْأَنْصَارُ فَلَمَّا دَخَلَ آجاؤں۔پھر آپ نے صحابہ سے کہا: اُٹھو۔چنانچہ عَلَى امْرَأَتِهِ قَالَ وَيْحَكِ جَاءَ النَّبِيُّ مہاجرین اور انصار کھڑے ہو گئے۔جب حضرت صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُهَاجِرِيْنَ جابر اپنی بیوی کے پاس گئے، کہنے لگے: تمہارا بھلا وَالْأَنْصَارِ وَمَنْ مَّعَهُمْ قَالَتْ هَلْ ہو! نبی صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین اور انصار اور سَأَلَكَ قُلْتُ نَعَمْ فَقَالَ ادْخُلُوا وَلَا جو اُن کے ساتھ ہیں سب کو لے کر آگئے ہیں۔تَضَاغَطُوْا فَجَعَلَ يَكْسِرُ الْخُبْزَ ان کی بیوی نے کہا: کیا آنحضرت صلی اللہ ہم نے تم وَيَجْعَلُ عَلَيْهِ اللَّحْمَ وَيُحَمِّرُ الْبُرْمَةَ سے کچھ پوچھا تھا؟ میں نے کہا: ہاں۔پھر آپ نے وَالتَّنُّوْرَ إِذَا أَخَذَ مِنْهُ وَيُقَرِّبُ إِلَى (صحابہ سے) فرمایا: اندر چلو اور کشمکش نہ کرو۔آپ روٹیوں کے ٹکڑے کر کے ان پر گوشت ڈال أَصْحَابِهِ ثُمَّ يَنْزِعُ فَلَمْ يَزَلْ يَكْسِرُ الْخُبْزَ وَيَغْرِفُ حَتَّى شَبِعُوا وَبَقِيَ کچھ لیتے تو اسے ڈھانپ دیتے۔اسی طرح کرتے بَقِيَّةٌ قَالَ كُلِي هَذَا وَأَهْدِي فَإِنَّ رہے یہاں تک کہ صحابہ سیر ہوگئے اور کچھ کھانا بیچ بھی رہا۔آپ نے (حضرت جابر کی بیوی سے ) النَّاسَ أَصَابَتْهُمْ مَجَاعَةٌ۔اطرافه: ۳۰۷۰، ۴۱۰۲ کر صحابہ کو دینے لگے اور جب ہانڈی اور تنور سے فرمایا: لو اب یہ کھالو اور ہدیہ بھیجو کیونکہ لوگ بہت بھوکے ہیں۔٤١٠٢: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَلِيّ :۴۱۰۲ عمرو بن علی (فلاس) نے مجھے بتایا۔ابو عاصم حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ (ضحاك بن مخلد ) نے ہم سے بیان کیا کہ حنظلہ بن بْنُ أَبِي سُفْيَانَ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ ابی سفیان نے ہمیں خبر دی۔سعید بن میناء نے ہمیں مِيْنَاءَ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ بتایا، انہوں نے کہا: میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ