صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 240 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 240

صحیح البخاری جلد ۸ ۲۴۰ ۶۴ - کتاب المغازی ٤١٠١: حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى :۴۱۰۱ خلاد بن يحي نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ عَنْ عبد الواحد بن ایمن نے ہمیں بتایا۔انہوں نے أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ جَابِرًا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اپنے باپ (ایمن حبشی ) سے روایت کی کہ انہوں فَقَالَ إِنَّا يَوْمَ الْخَنْدَقِ نَحْفِرُ فَعَرَضَتْ نے کہا: میں حضرت جابر ( بن عبد اللہ انصاری) كَيْدَةٌ شَدِيدَةٌ فَجَاءُوْا النَّبِيَّ صَلَّى الله رضی اللہ عنہ کے پاس آیا۔انہوں نے کہا: ہم خندق کے دن زمین کھود رہے تھے کہ ایک سخت پتھر عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوْا هَذِهِ كُدْيَةٌ سامنے آگیا۔پس وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عَرَضَتْ فِي الْخَنْدَقِ فَقَالَ أَنَا نَازِلٌ آئے اور عرض کیا کہ خندق میں ایک پتھر آگیا ہے۔ثُمَّ قَامَ وَبَطْنُهُ مَعْصُوبٌ بِحَجَرٍ وَلَبِثْنَا آپ نے فرمایا: میں اترتا ہوں۔آپ کھڑے ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ لَا نَذُوقُ ذَوَاقَا فَأَخَذَ ہوگئے اور آپ کے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا تھا اور النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِعْوَلَ تین دن سے ہم نے کچھ بھی نہیں چکھا تھا۔نبی فَضَرَبَ فِي كُدْيَةٍ فَعَادَ كَثِيْبًا أَهْيَلَ صلى اللہ علیہ وسلم نے کدال لی اور اس سے پتھر پر أَوْ أَهْيَمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ انْذَنْ ضربیں لگائیں تو وہ بھر بھر ؛ یا کہا کہ پھسلتی ہوئی لي إِلَى الْبَيْتِ فَقُلْتُ لِامْرَأَتِي رَأَيْتُ ریت کا ڈھیر ہو گیا۔میں نے کہا: یارسول اللہ ! مجھے بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مَا گھر تک جانے کی اجازت دیجئے۔میں نے جا کر اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں كَانَ فِي ذَلِكَ صَبْرٌ فَعِنْدَكِ شَيْءٌ ایک بات محسوس کی ہے جس پر صبر نہیں ہو سکتا۔فَقَالَتْ عِنْدِي شَعِيْرٌ وَعَنَاقٌ کیا تمہارے پاس کچھ (خوراک) ہے؟ کہنے لگی: فَذَبَحَتِ الْعَنَاقَ وَطَحَنَتِ الشَّعِيرَ کچھ جو اور بکری کا چھوٹا بچہ ہے۔میں نے اس بچے کو حَتَّى جَعَلْنَا اللَّحْمَ فِي الْبُرْمَةِ ثُمَّ ذبح کیا اور اس نے جو پیسے اور ہم نے پتھر کی بانڈی جِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ میں گوشت ڈال دیا۔پھر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے وَالْعَجِيْنُ قَدِ انْكَسَرَ وَالْبُرْمَةُ بَيْنَ پاس آیا اور آٹا خمیر ہو چکا تھا اور بانڈی چولہے پر الْأَثَافِي قَدْ كَادَتْ أَنْ تَنْضَحَ فَقُلْتُ پکنے کے قریب تھی۔میں نے کہا: (یا رسول اللہ !) طعَيَّمَ لِي فَقُمْ أَنْتَ يَا رَسُوْلَ اللهِ میرے پاس کچھ کھانا ہے۔یا رسول اللہ ! آپ اُٹھیں