صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 238
صحيح البخاری جلد ۸ ۲۳۸ ۶۴ - کتاب المغازی ٤٠٩٨ : حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا ۴۰۹۸: قتیبہ بن سعید ) نے مجھ سے بیان کیا کہ عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْل عبد العزيز بن ابی حازم) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ (اپنے باپ) ابو حازم ( سلمہ بن دینار ) سے، ابو حازم رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نے حضرت سہل بن سعد (ساعدی) رضی اللہ عنہ الْخَنْدَقِ وَهُمْ يَحْفِرُونَ وَنَحْنُ نَنْقُلُ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی ا یم التُّرَابَ عَلَى أَكْتَادِنَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ کے ساتھ خندق میں تھے اور وہ خندق کھود رہے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تھے اور ہم مٹی اپنے مونڈھوں پر ڈھو رہے تھے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ اے اللہ ! آخرت کی زندگی کے سوا کوئی فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ زندگی نہیں، مہاجرین و انصار کی مغفرت فرما۔اطرافه: ۳۷۹۷، ۶۴۱۴ ٤٠٩٩: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بنُ :۴۰۹۹ عبد الله بن محمد (مسندی) نے ہمیں بتایا۔مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا معاويه بن عمرو نے ہم سے بیان کیا کہ ابو اسحاق أبُو إِسْحَاقَ عَنْ حُمَيْدِ سَمِعْتُ أَنَسًا (فزاری) نے ہمیں بتایا۔انہوں نے حمید (طویل) اللهُ عَنْهُ يَقُوْلُ خَرَجَ رَسُوْلُ اللهِ سے روایت کی کہ میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ رَضِيَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْخَنْدَقِ سے سنا۔وہ کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فَإِذَا الْمُهَاجِرُوْنَ وَالْأَنْصَارُ يَحْفِرُونَ خندق کی طرف نکلے، دیکھا کہ مہاجرین و انصار فِي غَدَاةٍ بَارِدَةٍ فَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ عَبِيْدٌ سردی کے دن صبح کے وقت خندق کھود رہے ہیں۔اُن کے غلام نہ تھے جو اُن کے لئے یہ کام يَعْمَلُوْنَ ذَلِكَ لَهُمْ فَلَمَّا رَأَى مَا بِهِمْ کرتے۔جب آپ نے ان کی تکان اور بھوک محسوس کی تو فرمایا کہ مِنَ النَّصَبِ وَالْجُوْعِ قَالَ: اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَة اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهُ اے اللہ ! انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما۔