صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 236
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۳۶ ۶۴ - کتاب المغازی روایت سے بھی ظاہر ہے کہ یہ استمد او تبلیغی تھی نہ کہ جنگی اور آپ کے چیدہ قاری بھیجنے سے بھی اسی امر کی تائید ہوتی ہے کہ یہ مہم تبلیغی تھی نہ کہ حربی۔بنو عامر اور بنو سلیم کے گھرانے بڑی تعداد میں تھے۔مقصود یہ تھا کہ ایک ایک دو دو قاری ان کے سرداروں کے مشورے سے ان میں تقسیم کر دیئے جائیں تا انہیں تعلیم دے سکیں۔فَقَالَ بِالدَّمِ هَكَذَا۔۔۔۔قال یہاں بمعنی فعل ہے یعنی ابن ملحان نے خون اپنے ہاتھ میں یوں لیا اور اپنے منہ اور سر پر چھڑ کا اور فُرتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ کہتے ہوئے جان دے دی۔(فتح الباری جزء ے صفحہ ۴۸۵) جرآت اور دلیری اور جانبازی و فدائیت کا جو نمونہ ہر مجاہد نے دکھایا وہ ایک ابدی شہادت ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے محسن تربیت پر۔فرماتا ہے: وَكَذَلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَ يَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شهيدا (البقرة: ۱۴۴) ترجمہ : اسی طرح ( آزمائش سے) ہم نے تمہیں ایک اعلیٰ درجہ کی امت بنایا ہے تا تم دوسرے لوگوں کے لئے نمونہ ہو اور رسول تمہارے لئے نمونہ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت خبیب، حضرت عاصم، حضرت ابن ملحان اور دیگر صحابہ بھی زخمی ہوئے اور کفار بھی زخمی ہوئے اور ان کی عورتیں بھی روئیں اور اُن کی عورتیں بھی روئیں۔ان دونوں کے احساس الم و اظہارِ غم اور ان کی ذہنیت و معنویت میں بہت بڑا فرق ہے۔ایک فریق وحی الہی کے تسلی آمیز ہمت افزا پیغام سے مطمئن اور دوسرا مایوس و مضطرب۔فرماتا ہے: وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا و انتم الأَعْلَوْنَ إِنْ كُنْتُم مُّؤْمِنِينَ إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِثْلُهُ وَتِلْكَ الأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بيْنَ النَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَ يَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَاءَ وَ اللهُ لَا يُحِبُّ الظَّلِمِينَ } وَلِيُمَحِّصَ اللهُ الَّذِينَ امَنُوا وَ يَسْحَقَ الكَفِرِينَ ) (آل عمران: ۱۴۰ تا ۱۴۲) ترجمہ: اور تم کمزوری نہ دکھاؤ اور نہ غم کرو اور اگر تم مومن ہو تو تم ہی بالا ر ہو گے۔اگر تمہیں زخم پہنچے تو ان لوگوں کو بھی تو ویسا ہی زخم پہنچ چکا ہے اور یہ (فتح و شکست کے دن ایسے ہیں کہ ہم انہیں لوگوں کے درمیان باری باری چکر دیتے رہتے ہیں اور اس لئے بھی کہ اللہ ان لوگوں کو ظاہر کر دے جو ایمان لائے ہیں اور تم میں سے بعض کو شہید بنائے اور اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا اور یہ اس لئے کرتا ہے کہ جو مومن ہیں اللہ انہیں نکھار دے اور کافروں کو ہلاک کر دے۔اور فرماتا ہے: وَلَا تَهِنُوا فِي ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ اِنْ تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ وَ تَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمان ( النساء: ۱۰۵) ترجمہ : اور تم اس قوم کی طلب میں سستی نہ کرو۔اگر تمہیں تکلیف ہوتی ہے تو جس طرح تمہیں تکلیف ہوتی ہے انہیں بھی تکلیف ہوتی ہے اور تم اللہ سے وہ کچھ امید رکھتے ہو جس کی وہ امید نہیں رکھتے اور اللہ بہت ہی جاننے والا اور حکمت والا ہے۔اور تاریخ عالم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے حق میں سنہری حروف سے یہ شہادت قلمبند کی ہے کہ وہ نہ تھکے نہ ماندہ ہوئے۔جیسا کہ فرماتا ہے: فَمَا وَ هَنُوا لِمَا أَصَابَهُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَمَا ضَعُفُوا وَ مَا اسْتَكَانُوا ۖ وَاللَّهُ يُحِبُّ الطيرينَ ) (آل عمران: ۱۴۷) ترجمہ: ان زخموں کی وجہ سے جو اللہ کی راہ میں انہیں پہنچے نہ وہ ماندہ ہوئے نہ کمزور اور