صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 235
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۳۵ ۶۴ - کتاب المغازی آپ اپنے فرض منصبی کی ادائیگی میں ہمیشہ پر امید رہے اور آخر آپ کی امید جس شان سے پوری ہوئی وہ سب کو معلوم ہے۔آپ کی مہینہ بھر مضطربانہ دعا آپ کے غم و اندوہ کی شدت کا پتہ دیتی ہے اور قبولیت دعانے ان ظالم کفار کی گردنیں توڑ کر رکھ دیں۔شدید قحط نے ان کو مردوں کی ہڈیاں چبوائیں اور ناچار ہو کر آپ کے قدموں میں آگرے کہ دعا فرمائیں یہ قحط دور ہو۔(دیکھئے کتاب الاستسقاء باب ۱۳ روایت نمبر ۱۰۲۰) سورۃ الدخان میں بھی اس قحط کا ذکر ہے۔فرماتا ہے: ہم یہ قحط کی سزا دور کریں گے مگر تم پھر شرارتیں کرو گے اور ہم ( تَبْطِشُ البَطْشَةَ الكبری ) تمہیں ایک بہت بڑی گرفت میں لیں گے۔اس تعلق میں دیکھئے حقائق الفرقان، سورۃ الدخان جلد سوم صفحه ۵۶۹،۵۶۸۔کتب مغازی میں آیا ہے کہ شہدائے اُحد پر اُن کی رشتہ دار عورتیں قدیم طریق کے مطابق نوحہ کرنے لگیں۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے مقتولین کا بین کرتے سنا تو انصار و مہاجرین کے غم سے آپ چشم پر آب ہو گئے اور فرمایا: لكن حَمْزَةٌ لَا بَوَايَ لَهُ حمزہ کی کوئی رونے والیاں نہیں۔جب یہ خبر مسلم خواتین کو پہنچی تو وہ اپنا رونا بھول گئیں اور اکٹھی ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حضرت حمزہ کا نوحہ کرتی آئیں۔آپ باہر نکلے ، ان کا شکریہ ادا کیا اور فرمایا کہ اس قسم کا نوحہ اسلام میں جائز نہیں اور آئندہ کے لئے یہ قدیم رسم ممنوع قرار پائی۔اس تعلق میں ایک لطیف تبصرہ سیرت خاتم النبيين على الليل لم ) مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے) صفحہ ۵۰۳ میں دیکھئے جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان عالی کا عجیب علم حاصل ہوتا ہے۔جذبات غم کے اظہار میں بھی اصلاح آپ کے مد نظر تھی۔غم زدوں کی دلداری بھی فرمائی اور اصلاح بھی۔آپ کی دعاو بددعا کا بھی یہی حال تھا۔روایت نمبر ۴۰۹۰ کے الفاظ اِسْتَمَدُّوا رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَدُةٍ فَأَمَدَّهُمْ بِسَبْعِينَ مِنَ الأَنصار بھی قابل وضاحت ہیں۔استمداد سے یہاں تبلیغ اسلام میں مدد طلب کرنا مراد ہے، جنگی استمداد نہیں جیسا کہ سیرت ابن ہشام کی روایت میں صراحت ہے کہ ہمیں اسلام کی طرف رغبت ہے، کچھ لوگ بھیجیں جو ہمیں دین اسلام کی تعلیم دیں۔قبیلہ بنو عامر کا سردار اسلام سمجھنے کی غرض سے مدینہ میں آیا تھا۔آپ نے اسے سمجھایا۔اس بارہ میں ابن اسحاق کے یہ الفاظ ہیں: فَعَرَضَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْإِسْلَامَ۔۔۔فَلَمْ يُسْلِمُ وَلَمْ يَبْعُدُ مِنَ الْإِسْلَامِ۔آپ نے اُسے اسلام سے آگاہ کیا۔وہ اسلام میں داخل نہیں ہوا اور نہ اس سے دور ہوا اور چاہا کہ مبلغین بھیجے جائیں تا اس کی قوم کے لوگ دین اسلام سیکھیں۔سو وہ چاہتا تھا کہ ساری قوم مسلمان ہو۔یہ روایت (نمبر ۴۰۹۰) حضرت انسؓ سے مروی ہے۔ان کی یہی روایت بسند قتادہ کتاب الجہاد میں گزر چکی ہے۔اس میں ہے کہ قبائل رعل ، ذکوان، عصیہ اور بنو لحیان کے نمائندے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور اسلام میں داخل ہوئے۔وَاسْتَمَدُّوا عَلَى قَوْمِهِمْ۔۔۔(كتاب الجهاد، باب ۱۸۴، روایت نمبر ۳۰۶۴) اس ل (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة أحد: دفن الشهداء ، ، جزء۳ صفحه ۶۲ ۶۳) (السيرة النبوية لابن هشام ، حدیث بئر معونة، جزء ۳ صفحه ۱۳۸،۱۳۷)