صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 234 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 234

صحیح البخاری جلد ۸ ۲۳۴۴ ۶۴ - كتاب المغازی اردو متن میں فَظَهَرَ ھؤلاء ۔۔۔ کا ترجمہ سیاق کلام اور روایت نمبر ۱۰۰۲ ( کتاب الوتر باب ۷) کو مد نظر رکھ کر کیا گیا ہے جو مسدد سے مروی ہے اس میں یہ الفاظ ہیں: بَعَثَ ۔۔۔ إلى قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ دُونَ أُولَئِكَ وَكَانَ بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ - امام ابن حجر نے عبارت کا اشتباہ یوسف کے ایک حوالے سے دور کیا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں: إلى قَوْمٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ فَقَتَلَهُمْ قَوْمٌ مُّشْرِكُونَ دُونَ أُولَئِكَ وَكَانَ بَيْنَهُمْ وَ بَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَمَ عَهْدٌ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۴۸۹) غرض اس لفظی اختصار کے سوا باقی روایات بخاری اپنے مفہوم میں واضح ہیں۔ روایت نمبر ۴۰۹۱، ۴۰۹۲ میں حضرت حرام بن ملحان سے متعلق مروی ہے انہوں نے برچھا لگنے پر اپنا خون ہاتھ میں لیا، اپنے چہرے اور سر پر چھڑ کا اور فرمایا: اللهُ أَكْبَرُ فُزْتُ وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ : رب کعبہ کی قسم ! میں نے مراد پالی۔ حضرت عروہ بن زبیر کی ایک دوسری روایت میں یہی الفاظ حضرت عامر بن فہیرہ کی طرف بھی منسوب کئے گئے ہیں اور اس میں ہے کہ قاتل نے حضرت ضحاک بن سفیان سے پوچھا کہ ان الفاظ سے عامر بن فہیرہ کی کیا مراد ہے ؟ تو اُسے بتایا گیا کہ اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ میں نے شہادت کی موت سے جنت پالی جو اس زندگی میں میرا اصل مطلوب و مقصود ہے۔ اس سے وہ اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۴۸۸) حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ نے اپنے چہرے اور سر پر خون اسی لئے چھڑ کا تھا کہ یہ خون شہادت ان کی تمنا پوری کرنے والا ہے۔ اللہ اللہ ! صحابہ کرام کی زندگی و موت دونوں کا ایک ایک سانحہ عجیب و غریب شان والہیت و فدائیت کا مظہر ہے۔ روایت نمبر ۴۰۹۳ کے آخر میں ہے کہ بئر معونہ کے واقعہ میں حضرت عروہ بن اسماء بن صلت سلمی حلیف بنی عمر و بن عوف اور حضرت منذر بن عمر و خزرجی جو بنو ساعدہ کے خاندان میں سے تھے شہید ہوئے۔ حضرت منذر رضی اللہ عنہ بیعت عقبہ اور غزوہ بدر میں بھی شریک ہوئے تھے اور اکابر صحابہ میں سے تھے۔ انہی دونوں کی شہادت کے سبب سے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے دو بیٹوں کا نام عروہ اور مندر رکھا گیا تھا۔ ( فتح الباری جزءے صفحہ ۴۸۸) نوم اس باب کی سات روایتوں میں مذکور ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبائل بنی سلیم کے خلاف مہینہ بھر دعا کی۔ اس سے آپ کے صدمہ کی شدت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ جنگ اُحد میں ستر صحابہ شہید ہوئے تھے اور اس کے بعد تھوڑے ہی عرصہ میں رجیع اور بئر معونہ کے ہر دو واقعات : ، ہر دو واقعات میں اسی صحابہ اور شہید ہو گئے۔ یہ - یہ صدمہ زیادہ زیادہ تکلیف ده تھا کہ چیدہ مبلغین دغاو فریب سے تہ تیغ کر دیئے گئے۔ ان صبر آزما مظالم کا سلسلہ بہت طول پکڑ گیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل کو پے در پے حادثات سے جو گہرے زخم پہنچے، نہیں کہہ سکتے کہ ان زخموں کے درد کی شدت زیادہ تھی یا آپ کا صبر اپنی شدت ضبط میں زیادہ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں دونوں باتیں محیر العقول ہیں۔ اپنی قوم کی اصلاح میں ان وحشیانہ ظلموں کی وجہ سے موں کی وجہ سے آپؐ مایوس نہیں ہوئے۔ انتہائی الم و غم کے صدمے سہتے ہوئے