صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 233 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 233

صحيح البخاری جلد ۸ ۲۳۳ ۶۴ - کتاب المغازی یعنی روایت نمبر ۴۰۹۱ میں سہو کا تب ہے۔فَانْطَلَقَ حَرَامٌ أَخُو أَمْ سُلَيْمٍ وَهُوَ رَجُلٌ أَعْرَجُ لکھا گیا ہے۔اس فقرہ سے یہ غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ حضرت حرام بن ملحان رضی اللہ عنہ لنگڑے تھے۔اصل عبارت یوں ہے: فانطلق حَرَام أَخُو أَو سُلَيْمٍ هُوَ وَ رَجُلٌ أَعْرَجُ وَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ۔یعنی وہ ( خواتم سلیم ) اور ایک لنگڑا شخص اور ایک اور شخص فلاں قبیلے کا چلے گئے۔(فتح الباری جزءرے صفحہ ۴۸۴) حضرت انس کی یہی روایت کتاب الجہاد باب ۹ میں گزر چکی ہے۔(روایت نمبر (۲۸۰) اس میں حضرت حرام بن ملحان کے علاوہ دو شخصوں کے جانے کا ذکر ہے جن میں سے ایک لنگڑا تھا۔روایت نمبر ۴۰۹۰ میں اور اس کی اگلی سند ( نمبر (۲۰۹) میں الفاظ فَقَرَ أَنَا فِيهِمْ قُرْآنًا اور الفاظ فَأَنْزَلَ اللهُ عَلَيْنَا سے جو غلط فہمی پیدا ہوتی ہے کہ یہ کوئی آیت تھی، اس کی وضاحت بھی روایت نمبر ۲۸۰۱ میں موجود ہے کہ جبریل نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے شہدائے بئر معونہ کی اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا ذکر کیا تھا۔یہ آیت نہیں تھی جو آپ پر قرآنی وحی کی طرح نازل ہوئی ہو۔(دیکھئے کتاب الجہاد تشریح باب ۹) روایت نمبر ۴۰۹۳ کا تعلق تو آنحضرت صل ال نام اور حضرت ابو بکڑ کی ہجرت سے ہے جو کتاب مناقب الانصار باب ۴۵ روایت نمبر ۳۹۰۵ میں گزر چکی ہے۔یہاں اس کا ذکر واقعہ بئر معونہ کے تعلق میں اس لئے کیا گیا ہے کہ اس میں حضرت عامر بن فہیرہ کی شہادت کا ذکر تھا جنہیں حضرت ابو بکر نے ہجرت کے سفر میں اپنے ساتھ لیا تھا۔انہوں نے مکہ میں اسلام قبول کیا (أسد الغابة - ذكر عامر بن فهيرة) اور ان سابقین میں سے شمار ہوئے جنہیں درجہ شہادت نصیب ہوا۔علیہم رضوان اللہ۔اس باب کی آخری روایت نمبر ۴۰۹۶) میں جملہ فَظَهَرَ هُؤُلَاءِ الَّذِينَ كَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ وضاحت طلب ہے۔سیرت ابن ہشام اور طبقات ابن سعد کی روایت کے حوالے سے بتایا جاچکا ہے کہ ابو براء عامر بن مالک ( ملاعب الاسنہ۔نیزہ باز) کی خواہش و ضمانت پر ستر قاری تبلیغ کی غرض سے بھیجے گئے تھے۔یہ قبیلہ بنی عامر کے سردار تھے اور اسلام کی طرف مائل اور ان کا بھتیجا عامر بن طفیل اسلام کا دشمن تھا جس نے قبیلہ بنی عامر سے چاہا تھا کہ قاریوں پر حملہ کر دیا جائے تو انہوں نے ابو براء کے عہد کی بناء پر اس کی بات ماننے سے انکار کر دیا جس پر عامر بن طفیل نے بنو سلیم کے قبیلہ عصیہ اور ذکوان کو اکسا کر ان پر حملہ کروا دیا۔فَظَهَرَ سے مراد یہ ہے کہ بنو عامر کے انکار سے معلوم ہو گیا کہ جنہوں نے حملہ کیا تھا وہ ان کے علاوہ دوسرے قبیلے کے لوگ تھے۔بیان کیا جاتا ہے کہ ابو براء عامر بن مالک کو اپنے بھائی کے بیٹے عامر بن طفیل کی غداری کا اتنا شدید صدمہ ہوا کہ وہ اس صدمہ سے جاں بحق ہو گئے اور ان کے بیٹے ربیعہ نے اپنے چچازاد بھائی عامر بن طفیل کو برچھی مار کر ہلاک کر دیا۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۴۸۹) اور صحیح بخاری کی روایت نمبر ۴۰۹۱ میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بددعا کے نتیجہ میں وہ طاعون سے ہلاک ہوا تھا۔1۔اس تعلق میں مسند احمد بن حنبل، مسند أنس بن مالك، جزء۳ صفحہ ۲۱۰ بھی دیکھئے۔