صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 17
صحيح البخاری جلد ۸ IZ ۶۴ - کتاب المغازی رمضان کو فرقان اسی لئے کہا گیا ہے کہ اس میں حق و باطل میں فرق کر کے دکھلائے جانے والے نشانات کا ظہور مقدر تھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس الہی منشاء کو پورے طور پر سمجھ رہے تھے۔آیت وَتَوَدُّونَ أَن غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ (الأنفال: ۸) میں صحابہ کر اہم مخاطب ہیں جن سے منصوبہ جنگ مخفی رکھا گیا تھا اور حضرت عبد اللہ بن جحش کے فعل کو وہ غلطی پر محمول کر رہے تھے اور ان کی مہم کے متعلق یہ سمجھ رہے تھے کہ اس کے بھیجے جانے کی غرض مال غنیمت حاصل کرنا تھی۔بے شک مغازی میں ایسی روایتیں آئی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عبد اللہ بن جحش اور آپ کے ساتھیوں پر ناراضگی کا اظہار فرمایا۔لیکن یہ ناراضگی اس لحاظ سے بجا تھی کہ ان کی مہم سے متعلق ایسی صورت پیدا ہوگئی تھی جو فتنے کا موجب بن سکتی تھی۔مگر بسا اوقات بعض امور جو بظاہر غلطیاں معلوم ہوتی ہیں منشائے الہی کے تحت صادر ہوتی ہیں اور بعض معمولی واقعات عظیم الشان نتائج پر منتج ہو جاتے ہیں۔پس عین ممکن تھا کہ اگر حضرت عبد اللہ بن جحش کی مہم نہ بھیجی جاتی اور ان سے جو کچھ ہوا وہ نہ ہوتا اور ابو سفیان کی سرکردگی میں شام سے آنے والا قافلہ مکہ میں بلا خطر پہنچ جاتا تو قریش اس قافلے سے فائدہ اُٹھا کر بہت بڑی تیاری کے ساتھ مسلمانوں پر حملہ آور ہوتے جس کا مقابلہ کرنا قلیل التعداد بے سروسامان صحابہ کے لئے ناگوار صورت رکھتا۔لیکن حضرت عبد اللہ بن جحش کے واقعہ سے مغرور سردارانِ قریش آگ بگولہ ہو گئے اور اس طیش اور غرور میں جلدی سے وہ ایک ہزار کے لگ بھگ مسلح فوج کے ساتھ اس زعم میں مقام بدر پر پہنچ گئے کہ وہ اپنے قافلہ کو بچائیں اور وہ نہیں جانتے تھے کہ وہیں ان کی موت مقدر ہے اور دوسری طرف اس بات کا بھی امکان تھا کہ اگر صحابہ کرام کو یہ معلوم ہوتا کہ ایک مسلح فوج کے مقابلہ کے لئے انہیں لے جایا جارہا ہے تو ان میں سے بعض تر ڈو میں پڑ جاتے۔پس راز داری نے وہ کام کیا جو جنگ میں ایسے مورچے کام دیتے ہیں۔جنہیں آج کل کی جنگی اصطلاح میں Camouflage کہتے ہیں یعنی اوٹ یا پر دہ۔نہ غزوہ بدر کے لئے رمضان کے مہینہ میں کوچ کرنا اتفاقی حادثہ ہے اور نہ اس کے بعد اسی مہینہ میں غزوہ فتح مکہ کے لئے کوچ اتفاقی ہے۔ان غزوات کا ماہِ رمضان میں وقوع اور پھر ان کا خارق عادت صورت میں ظہور ، بہتوں کے لئے ہدایت کا موجب ہونا اتفاقی حادثات نہیں کہلا سکتے اور نہ یہ کوچ کسی تجویز یا آنحضرت علی علیکم کے ارادہ سے منسوب کئے جاسکتے ہیں۔کیونکہ ان غزوات میں ابتداء کفارِ مکہ کی طرف سے ہوئی تھی اور یہ ایسے وقت میں ہوا کہ ان سے مقابلہ مسلمانوں کو لا محالہ رمضان کے مہینے میں کرنا پڑا۔غزوہ فتح مکہ کی تفاصیل کو بھی دیکھا جائے تو یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں جنگیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی سابقہ تجویز کا نتیجہ نہ تھیں۔روایت نمبر ۳۹۵۱ میں حضرت کعب بن مالک کا یہ قول نقل کیا گیا ہے: إِنَّمَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ عِيْرَ قُرَيْشٍ حَتَّى جَمَعَ اللهُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ عَدُوِّهِمْ عَلَى غَيْرِ مِیعَادِ۔اس قول سے ان کی یہی