صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 232
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۳۲ ۶۴ - کتاب المغازی ہے کہ وہ اسلام قبول کر لیں گے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اني أَخْشَى عَلَيْهِمْ أَهْلَ نَجْدٍ کہ مجھے نجدیوں کی طرف سے ان کے بارے میں اندیشہ ہے تو اس نے کہا: أَنا لَهُم جَارُ : وہ میری پناہ میں ہوں گے۔تو آپ نے چیدہ صحابہ بھیجے جن میں اکثر قاری تھے اور ایک صحابی تو بنو سلیم قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔۔تعداد اسی وجہ سے بڑھائی گئی تھی کہ آپ کو اطمینان نہ تھا۔عامر بن طفیل اور بنو سلیم کے بعض قبائل نے ایسی حالت میں ان پر چھاپہ مارا کہ وہ سوئے ہوئے تھے۔انہوں نے مقابلہ کیا مگر دشمن تعداد میں بہت زیادہ تھا۔منت پوری کرنے کے لئے صرف ایک آدمی کی جان بخشی ہوئی۔سیرت ابن ہشام کی مذکورہ بالا روایت سے بھی اسی امر کی تائید ہوتی ہے کہ مجدی قبائل مضر شرارت کے لئے پہلے سے تلے بیٹھے تھے۔فتح مکہ پر بھی یہ لوگ شرارت سے باز نہیں آئے۔ہوازن کے تیر اندازوں کا اچانک حملہ تاریخ اسلام میں غزوہ حنین کے نام سے مشہور ہے۔یہ ہوازن مصری قبیلے ہی کی ایک شاخ تھے۔(دیکھئے باب ۵۴) فتح مکہ کے بعد جب عبد القیس کا وفد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسلام سیکھنے کے لئے آیا تو اس وفد نے آپ سے قبائل مضر ہی کی شکایت کی تھی۔(دیکھئے باب ۶۹) اور شکل و تمرینہ جن کے بعض افراد 1ھ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ آئے ، انہوں نے اسلام قبول کیا ، مدینہ میں کچھ عرصہ ٹھہرے اور ان کی خاطر و تواضع ہوئی، اس کے باوجود انہوں نے نہایت کمینگی اور شدید سنگ دلی کا اظہار کیا۔(دیکھئے کتاب الوضوء، روایت نمبر ۲۳۳) ان میں سے بھی عکل کا قبیلہ مضری تھا۔غطفان اور فزارہ کا اچانک حملہ اسی قبیل سے ہے جو کتب مغازی میں غزوہ غابہ کے نام سے مشہور ہے۔کے یہ حملہ ۶ھ میں ہوا تھا۔(دیکھئے کتاب الجہاد والسیر، باب ۱۶۶، روایت نمبر ۳۰۴۱)۔واقعات ان مشرک قبائل کی عداوت شدید کے آئینہ دار ہیں۔قبائل مضر کے دو بڑے خاندان تھے۔ایک بنو خندف اور دوسرا بنو قیس اور وہ مختلف شاخوں میں منقسم تھے۔قارہ، عکل، عدی، تمیم ، کنانہ ، ہوں اور تعلبہ وغیرہ کا تعلق پہلے خاندان سے تھا۔شہ اور غطفان، فزارہ، مرة، سلیم، ہوازن، ثقیب، بنو عامر ، عبس اور ذبیان وغیرہ کا تعلق دوسرے خاندان سے تھا۔یہ قبائل علاقہ نجد کے بالائی حصوں میں سکونت رکھتے تھے اور قریش مکہ کے زیر اثر تھے۔امام بخاری نے زیر شرح واقعات یونہی ایک عنوان میں جمع نہیں کر دئے اور نہ امر واقعہ کے لحاظ سے ان کی پیش کردہ روایتوں میں خلط ہے سو اکتابت کی ایک غلطی کے جو امام ابن حجر نے صاف کر دی ہے یا اختصار لفظی کے۔(تاريخ الخميس، سرية المنذرين عمر و إلى بئر معونة، جزء اول صفحه (۴۵۲) ( السيرة النبوية لابن هشام ، حدیث بئر معونة ، جزء ۳ صفحه ۱۳۸) (عمدة القارى، كتاب الوضوء ، شرح باب ٦٦ : أبوال الأبل والدواب والغنم، جزء ۳ صفحه ۱۵۲) الطبقات الكبرى لابن سعد، غزوة رسول الله ﷺ الغابة، جزء ۲ صفحہ ۷۶) (أنساب الأشراف للبلاذري نسب بني مدركة بن إلياس بن مضر، ج جزء ۱۱ ، صفحه ۲۶۱،۲۰۹۰۱۵۰،۸۳-۲۶۳) (أنساب الأشراف للبلاذری، نسب قیس، جزء۱۳، صفحه ۹۵-۹۹، ۳۴۱،۲۸۶،۲۸۵)