صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 231
۶۴ - کتاب المغازی حيح البخاری جلد ۸ مَا نُرِيدُ قِتَالَكُمْ إِنَّمَا نُرِيدُ أَنْ تُصِيبَ بِكُمْ ثَمَنَّا مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ وَلَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيْثَاقُ أَلَّا نَقْتُلَكُوم ترجمہ : ہم تم سے لڑنا نہیں چاہتے۔مکہ والوں سے تمہارے عوض میں صرف مال حاصل کرنا چاہتے ہیں اور اور تم سے اقرار اور پختہ عہد کرتے ہیں کہ ہم تمہیں قتل نہیں کریں گے۔اس حوالے اور حضرت خبیب کے فروخت کئے جانے سے ظاہر ہے کہ اہل مکہ کے سمجھوتے پر ان قبائل نے فریب وہی سے کام لیا۔عربوں میں مقتول کے انتقام کا عقیدہ ان کے لئے موت و زندگی کا سوال تھا جس کی وجہ سے ان کے درمیان مدتوں لڑائیوں کا ختم نہ ہونے والا سلسلہ جاری رہتا تھا۔بدر میں ان کے بڑے بڑے سردار مارے گئے جن کی تعداد ستر تھی اور یہی تعداد قیدیوں کی بھی تھی۔اس کے مقابلے میں مسلمانوں کا جانی نقصان بہت کم تھا۔کفار مکہ کی طرف سے اپنے بدری مقتولین ہی کا انتقام لینے کے لئے زرِ کثیر صرف کر کے اُحد میں جنگ کی گئی تھی۔مگر اس میں بھی بقول ابن اسحاقی ان کے بائیں جانباز کام آئے۔تے اس لڑائی میں ان کی آتش انتقام ٹھنڈی نہیں ہوئی بلکہ اور بھڑک اُٹھی۔اس لئے انہوں نے کھلے میدان میں لڑنے کی جگہ مجدی قبائل کے ذریعہ سے دغاو فریب کا طریق اختیار کیا۔مقتولین اُحد میں قریش کے حلیف بنو عامر وغیرہ کے بعض لوگ بھی تھے۔کے اور اس انتقامی کارروائی میں اس لحاظ سے دشمنوں کو بظاہر کامیابی ہوئی کہ انہوں نے بیک وقت دونوں واقعات میں مسلمانوں کے اسی افراد قتل کر کے اپنا انتقام لے لیا۔کھلی لڑائی میں تو محار بین ایک دوسرے کے قتل و قید کا حق رکھتے تھے۔ان کے سوا کسی اور کو یہ حق نہیں پہنچتا تھا کہ وہ فریب وہی سے دوسروں کو قتل یا قید کرے۔یہ صریح و حشیانہ کارروائی تھی جس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنا شدید صدمہ ہوا کہ آپ نے مہینہ بھر ان قبائل کے لئے بددعا کی۔کتب سیر و تاریخ میں واقعہ رجیع سفیان بن خالد بذلی لحیانی کے قتل سے وابستہ کیا گیا ہے ہے جس کی نسبت ابن سعد کی روایت ہے کہ وہ عرنہ کے علاقہ میں مدینہ پر حملہ کرنے کی غرض سے بہت بڑی تیاری کر رہا تھا۔جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو علم ہوا تو آپ نے اس کے کوچ کرنے سے پہلے حضرت عبد اللہ بن اُنیس کو بھیج کر اسے ختم کروا دیا۔ہے سیرت ابن ہشام میں بھی اس کا ذکر ہے۔2۔مگر ان دونوں مورخین نے اس واقعہ کو غزوہ رجیع کا سبب نہیں بتایا اور امام بخاری نے اسے نظر انداز کیا ہے۔بہر حال اس واقعہ سے کم از کم اتنا ضرور معلوم ہوتا ہے کہ مجدی علاقہ کے حالات بہت مخدوش تھے۔یہی وجہ ہے کہ جب ابو براء عامر بن مالک ( ملاعب الا سنہ : نیزہ باز) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ نجدیوں کی طرف اپنے صحابہ میں سے بعض کو بھیجیں جو انہیں اسلام کی دعوت دیں اور امید (الطبقات الكبرى لابن سعد، سرية مرثد بن أبي مرثد، جزء ۲ صفحه ۵۲) ( السيرة النبوية لابن هشام، ذكر من قتل من المشركين يوم أحد، جزء ۳ صفحه ۹۲) المغازي للواقدي، غزوة الرجیع، جزء اول صفحه ۳۵۴) (الطبقات الكبرى لابن سعد، سرية عبد الله بن أنيس، جزء ۲ صفحه ۴۷) ( السيرة النبوية لابن هشام، غزوة عبد الله بن أنيس ، جزء ۴ صفحه ۲۶۵)