صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 230
۲۳۰ ۶۴ - کتاب المغازی صحیح البخاری جلد ۸ بئر معونہ کا واقعہ محرم اور صفر ۴ ھ کا بیان کیا گیا ہے۔مزید وضاحت کیلئے دیکھئے سیرت خاتم النبیین ملی ای کم مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحه ۵۱۳ تا۵۲۱- نیز دیکھئے سیرت النبی صل الله علم مصنفہ علامہ شبلی نعمانی جلد اول صفحه ۲۲۴ امام بخاری نے ابن اسحاق کے حوالے سے اس غلطی کی اصلاح کی ہے کہ جنگ اُحد پر زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ ارد گرد کے قبائل نے جلد ہی فتنہ فساد برپا کر دیا۔بدوی قبائل بنی سلیم میں سخت ہیجان پیدا ہوا۔انہوں نے دغا، فریب، شب خونی اور اچانک حملوں سے غزوہ بدر و اُحد کا انتقام لینا چاہا۔مدینہ کے دور و نزدیک قبائلی علاقے بھڑک اُٹھے۔یہودی جلا وطنوں نے بھی مال و دولت کی طمع دے کر ان قبائل کو انصار و مہاجرین مدینہ کے خلاف خوب مشتعل کر دیا۔کھلے مقابلے کی جگہ انہوں نے وہ راہ اختیار کی جس کا ذکر اس باب کی روایتوں میں ہے۔قرآنِ مجید میں اس حالت خوف و خطر کا نقشہ مندرجہ ذیل الفاظ میں کھینچا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ صحابہ کرام کو بطور احسانِ عظیم یاد دلاتا اور فرماتا ہے: وَاذْكُرُوا إِذْ اَنْتُمْ قَلِيلٌ مُسْتَضْعَفُونَ فِي الْأَرْضِ تَخَافُونَ أَن يَتَخَطَفَكُمُ النَّاسُ فَا وَلَكُمْ وَأَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهِ وَ رَزَقَكُمْ مِنَ الطَّيْبَتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ (الأنفال:۲۷) ترجمہ: اور وہ وقت بھی یاد کرو جبکہ تم تھوڑے تھے اور زمین میں کمزور سمجھے جاتے تھے ، ڈرتے تھے کہ مبادا لوگ تمہیں اُچک کر نہ لے جائیں۔اس نے (اس نازک حالت میں) تمہیں ( مدینہ میں) پناہ دی اور اپنی نصرت سے تمہیں مضبوط کیا اور تمہیں پاکیزہ رزق دیا تا تم شکر گزار ہو۔اس حالت خوف و خطرہ کا تعلق اسی زمانے سے ہے جس میں غزوات بدر واحد اور رجیع و بئر معونہ وغیرہ واقع ہوئے۔واقعات کی نوعیت سے بھی ظاہر ہے کہ قبائل کا صحابہ کر ام کو اپنے علاقے میں دعوت دے کر بے رحمی سے ذبح کر دینا کسی خاص منصوبے کے تحت عمل میں لایا گیا تھا جس علاقے میں اور جن قبائل کی طرف سے یہ واقعات رونما ہوئے، وہ کفار مکہ کے زیر اثر تھے۔بئر معونہ مکہ اور عسفان کے درمیان واقع ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۴۷۴) رجیع بھی بئر معونہ کی جہت میں واقع ہے۔(روایت نمبر ۴۰۸۶) اور عضل و قارہ قبیلہ بنوالہون (مضر) کی شاخیں ہیں۔کے کنانہ، اسد، عکل، مزینہ ، تمیم اور ہذیل بھی مضر ہی میں سے ہیں۔یہ قبائل قریش مکہ کے حلیف تھے اور مسجد کے بالائی حصے کی ایسی جگہوں میں تھے جہاں سے قریش کے تجارتی قافلے گزرتے تھے۔مذکورہ بالا منصوبہ سے متعلق قیاس کی تائید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ تبلیغی وفدوں میں ایسے مہاجرین و انصار شامل تھے جن کے ہاتھ سے غزوہ بدر واحد میں کفار قریش کے بعض بڑے بڑے سردار ہلاک ہوئے تھے۔قبیلہ عضل وقارہ کے لوگوں نے پہلے عہد و پیمان دے کر انہیں زندہ قید کر کے مکہ مکرمہ کو لے جانے کی کوشش کی تا انہیں ورثائے مقتولین کے ہاتھ فروخت کر دیں جیسا کہ روایت نمبر ۴۰۸۶ میں ذکر ہے کہ حضرت خبیب نے غزوہ بدر میں حارث بن عامر کو قتل کیا تھا اور حارث کے بیٹوں نے انہیں خرید لیا اور طبقات ابن سعد میں یوں صراحت ہے:۔(شرح الزرقاني على المواهب اللدنية، بئر معونة، جزء ۲ حاشیه صفحه ۴۹۶) (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية، بعث الرجيع جزء ۲ صفحه ۴۷۵)