صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 228 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 228

حيح البخاری جلد ۸ ۲۲۸ ۶۴ - کتاب المغازی ح : غَزْوَةُ الرَّجِيعِ وَرِعْلٍ وَذَكْوَانَ وَبِثْرِ مَعُونَةٌ : عنوانِ باب دو حصوں میں منقسم ہے۔ایک حصہ کا عطف غزوہ کر جمیع پر ہے یعنی غزوہ کر جمیع اور غزوہ رمل و ذکوان و بئر معونہ اور دوسرے حصہ کا عطف حدیث پر یعنی حدیث عضل والقارة و حديث عاصم بن ثابت و خبیب واصحابه - کتاب الجہاد باب ۹، باب ۱۹ کی تشریح میں غزوہ بئر معونہ کا واقعہ تفصیل سے گزر چکا ہے۔ستر قاری تبلیغی غرض سے بھیجے گئے تھے۔غزوہ کا نام اس واقعہ پر اس لیے اطلاق پاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قبائل مجد کی طرف سے اندیشہ تھا۔جس کی وجہ سے سے مبلغین کی تعداد بڑھائی گئی تا اگر قبائل بنی سلیم غداری کریں تو یہ تعداد ان کا مقابلہ کر سکے۔رجیع کا وفد خبر رسانی کی غرض سے تیار کیا گیا تھا اور قبائل عضل و قارہ کی درخواست پر جو بظاہر اسلام قبول کرنے کی غرض سے ان دنوں مدینہ میں آئے ہوئے تھے۔یہ وفد تبلیغ کے لئے ان کے ساتھ روانہ کیا گیا تھا۔کے دونوں مواقع پر غداری کی گئی اور لڑائی کی صورت پیدا ہو گئی۔صحابہ کرام نے حملہ آوروں سے مقابلہ کیا۔اس لئے دونوں واقعات غزوہ کہلائے۔ورنہ ان کی روانگی سے در حقیقت جنگ مقصود نہ تھی، محض تبلیغ اسلام مد نظر تھی۔دونوں واقعات کی نوعیت ایک سی ہے، اس لئے عنوانِ باب میں ان کا ذکر یکجا کیا گیا ہے۔بعض شارحین کا خیال ہے کہ امام بخاری کو یہ غلط فہمی پیدا ہوئی ہے کہ رجیع اور بئر معونہ کا واقعہ ایک ہے یہ خیال درست نہیں۔دونوں کو ایک ہی عنوان سے اکٹھا کرنے کی ایک اور وجہ بھی ہے کہ وہ تقریباً ایک ہی زمانہ میں رونما ہوئے جیسا کہ ابن سعد نے طبقات میں ذکر کیا ہے کہ غزوہ احد کے بعد ماہِ صفر ۳ھ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مذکورہ بالا دونوں واقعات کی اطلاع ملی ہے اور عنوانِ باب ہی میں محمد بن اسحاق کا قول نقل کیا گیا ہے کہ غزوہ احد کے بعد مذکورہ بالا قبائل کی غداری کے واقعات ظاہر ہوئے تھے۔سیرت ابن ہشام میں زیر عنوان ذكر يَوْمِ الرّجِيعِ فِي سَنَةِ ثَلَاثٍ قبيله عضل وقارہ سے متعلق ان الفاظ میں روایت نقل کی گئی ہے: فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ فِيْنَا إِسْلَامًا فَابْعَثُ مَعَنَا نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِكَ يُفَقِهُوْنَنَا فِي الدِّينِ وَيُقْرِءُ وَنَنَا الْقُرْآنَ وَيُعَلِّمُونَنَا شَرَائِعَ الْإِسْلَام عضل وقارہ کے نمائندوں نے کہا: یا رسول اللہ ! ہمیں اسلام کی طرف رغبت ہے۔اپنے صحابہ میں سے کچھ لوگ ہمارے ساتھ بھیجے جو ہمیں دین سمجھائیں، قرآن پڑھائیں اور احکام شریعت سکھائیں تو آپ نے حضرت مرثد غنوٹی کی قیادت میں چھ آدمی بھیجے جن میں حضرت عاصم بن ثابت، حضرت خبیب بن عدی اور حضرت زید بن دشنہ بھی تھے ( دو قبیلہ اوس کے دو خزرج کے اور دو مہاجر ) جب یہ حجاز کے اطراف میں مقام رجیع پر پہنچے تو اُن سے غداری کی گئی۔رجیع قبیلہ ہذیل کا چشمہ ہے جو هَدَاة پہاڑی سے نکلتا ہے۔کے اس نام کا ایک علاقہ طائف کے قریب بھی ہے (معجم البلدان- رجیع) جہاں سلسلہ کوہستان قرہ ہے۔ل (السيرة النبوية لابن هشام حديث بئر معونة في صفر سنة أربع، جزء ۳ صفحه ۱۳۸) ( السيرة النبوية لابن هشام، ذكر يوم الرجيع فى سنة ثلاث، جزء ۳ صفحه ۱۲۴،۱۲۳) الطبقات الكبرى لابن سعد، سرية المنذر بن عمرو، جزء ۲ صفحه ۴۹،۴۸)