صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 227 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 227

صحیح البخاری جلد ۸ ۲۲۷ ۶۴ - کتاب المغازی قُتِلُوا أَصْحَابِ بِئْرِ مَعُوْنَةَ قُرْآنًا قرآن نازل کیا جسے ہم پڑھتے رہے۔ آخر وہ پڑھنا قَرَأْنَاهُ حَتَّى نُسِخَ بَعْدُ بَلِّغُوْا قَوْمَنَا بعد کو موقوف ہو گیا۔ وہ یہ تو وہ یہ تھا: ہماری قوم کو یہ بات ) فَقَدْ لَقِيْنَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا وَرَضِيْنَا پہنچا دو کہ ہم اپنے رب سے آملے ہیں۔ وہ ہم سے راضی ہوا اور ہم اس سے راضی ہو گئے۔ عَنْهُ۔ اطرافه ۱۰۰۱ ۱۰۲ ۱۰۰۳، ۱۳۰۰، ۲۸۰۱، ۲۸۱۴، ۳۰۶۴، ۳۱۷۰، ۴۰۸۸، ۴۰۸۹، ۴۰۹۰ ۷۳۴۱ ،۱۳۹۴ ،۴۰۹۶ ،۴۰۹۴ ،۴۰۹۲ ،۴۰۹۱ ہے۔ میں نے کہا: رکوع سے پہلے پڑھا کرتے تھے ٤٠٩٦ : حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۴۰۹۶ : موسیٰ بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ عبد الواحد (بن زیاد ) نے ہمیں بتایا۔ عاصم احول الْأَحْوَلُ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ نے ہم سے بیان کیا، کہا: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نماز میں دعائے قنوت پڑھنے رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْقُنُوْتِ فِي الصَّلَاةِ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: ہاں درست فَقَالَ نَعَمْ فَقُلْتُ كَانَ قَبْلَ الرُّكُوعِ أَوْ بَعْدَهُ قَالَ قَبْلَهُ قُلْتُ فَإِنَّ فُلَانًا یا بعد ؟ انہوں نے کہا: رکوع سے پہلے۔ میں نے کہا: أَخْبَرَنِي عَنْكَ أَنَّكَ قُلْتَ بَعْدَهُ قَالَ فلاں (یعنی محمد بن محمد بن سیرین) نے تو آپ - آپ کے متعلق كَذَبَ إِنَّمَا قَنَتَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ مجھے بتایا ہے کہ آپ نے رکوع کے بعد کہا تھا۔ انہوں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ الرَّكُوعِ شَهْرًا أَنَّهُ نے کہا: غلط کہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو كَانَ بَعَثَ نَاسًا يُقَالُ لَهُمُ الْقُرَّاءُ رکوع کے بعد ایک مہینہ کھڑے ہو کر دعا کرتے رہے۔ اس کی وجہ یہ ہوئی کہ آپؐ نے کچھ لوگ وَهُمْ سَبْعُوْنَ رَجُلًا إِلَى نَاسٍ مِنَ جنہیں قاری کہتے تھے اور وہ ستر تھے بعض مشرکوں الْمُشْرِكِينَ وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللَّهِ کے پاس بھیجے اور ان کے اور رسول اللہ صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ قِبَلَهُمْ عَلیہ وسلم کے درمیان عہد تھا۔ (اس واقعہ سے) فَظَهَرَ هَؤُلَاءِ الَّذِيْنَ كَانَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ ظاہر ہو گیا کہ حملہ کرنے والے (بنو عامر نہ تھے بلکہ ) رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدٌ دوسرے لوگ تھے (یعنی بنو سلیم)۔ اس لئے فَقَنَتَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے بعد مہینہ بھر بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا يَدْعُو عَلَيْهِمْ۔ اُن کے خلاف دعا کرتے رہے۔ اطرافه: ۱۰۰۱، ۱۰۰۲، ۱۰۰۳، ۱۳۰۰، ۲۸۰۱، ۲۸۱۴، ۳۰۶۴، ۳۱۷۰، ۴۰۸۸، ۴۰۸۹، ۴۰۹۰ ۷۳۴۱،۶۳۹۴ ،۴۰۹۵ ،۴۰۹۴ ،۴۰۹۲ ،۴۰۹۱