صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 226
صحيح البخاری جلد ۸ ۲۲۶ ۶۴ - کتاب المغازی وَمُنْذِرُ بْنُ عَمْرِو سُمِّيَ بِهِ مُنْذِرًا۔نام پر عروہ رکھا گیا اور ان شہیدوں میں سے حضرت منذر بن عمرو بھی تھے۔انہی کے نام پر (حضرت زبیر کے ایک لڑکے کا نام) منذر رکھا گیا۔اطرافه: ۴۷۶، ۲۱۳۸، ۲۲۶۳، ۲۲۶۴، ۲۲۹۷، ۳۹۰۵، ۱۰۷۹،۵۸۰۷۔٤٠٩٤ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ أَخْبَرَنَا :۴۰۹۴ محمد بن مقاتل) نے ہم سے بیان کیا کہ عَبْدُ اللهِ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ عَنْ عبد الله بن مبارک) نے ہمیں خبر دی۔سلیمان أَبِي مِجْلَرٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تیمی نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ابو مجلز سے، انہوں قَالَ قَنَتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ بَعْدَ الرُّكُوعِ شَهْرًا يَدْعُو عَلَى رِعْلِ انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے بعد وَذَكْوَانَ وَيَقُوْلُ عُصَيَّةٌ عَصَتِ اللَّهَ ایک مہینہ کھڑے ہوکر رعل اور ذکوان (قبیلوں) کے خلاف دعا کرتے رہے اور فرماتے تھے: عصیہ وَرَسُوْلَهُ۔قبیلہ نے اللہ اور اس کے رسول سے بغاوت کی۔اطرافه ۱۰۰۱ ۱۰۲ ۱۰۰۳ ۱۳۰۰، ۲۸۰۱، ۲۸۱۴، ۳۰۶۴ ،۳۱۷۰، ۴۰۸۸، ۴۰۸۹، ۴۰۹۰ ۷۳۴۱،۶۳۹۴ ،۴۰۹۶ ،۴۰۹۵ ،۴۰۹ ،۴۰۹۱ ٤٠٩٥ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ :۴۰۹۵ یحی بن جیگیر نے ہم سے بیان کیا کہ مالک حَدَّثَنَا مَالِكٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْن عَبْدِ اللہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اسحاق بن عبد اللہ بن بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ الى طلحہ سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک سے قَالَ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی یکم تیس دن عَلَى الَّذِيْنَ قَتَلُوْا أَصْحَابَهُ بِشر تک ان لوگوں کے خلاف دعا کرتے رہے جنہوں نے بئر معونہ میں آپ کے صحابہ کو قتل کر دیا تھا۔مَعُوْنَةَ ثَلَاثِيْنَ صَبَاحًا حِيْنَ يَدْعُو آپ رعل اور لحیان اور عصیہ جس نے اللہ اور اس عَلَى رِعْلِ وَلَحْيَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَتِ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بغاوت کی، کے اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خلاف دعا کر رہے تھے۔حضرت انس نے کہا: قَالَ أَنَسٌ فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى لِنَبِيِّهِ الله تعالٰی نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کو اُن (صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الَّذِيْنَ لوگوں کی نسبت جو بئر معونہ میں قتل کئے گئے تھے،