صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 225
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۲۵ ۶۴ - کتاب المغازی الرِّعَاءِ فَلَمَّا خَرَجَ خَرَجَ مَعَهُمَا چلے آتے۔ اس لئے چرواہوں میں سے کوئی بھی سر يُعْقِبَانِهِ حَتَّى قَدِمَا الْمَدِينَةَ فَقُتِلَ اُن سے آگاہ نہ : اہ نہ ہوتا۔ جب آنحضرت صلی اللہ وسلم ( اور عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ۔ حضرت ابو بکر) چلے تو (حضرت عامر بن فہیرہ) بھی ان کے ساتھ چلے۔ دونوں انہیں باری باری اپنے پیچھے بٹھا لیتے یہاں تک کہ مدینہ پہنچے۔ پھر حضرت عامر بن فہیرہ بئر معونہ کے واقعہ میں شہید ہوئے۔ وَعَنْ أَبِي أَسَامَةَ قَالَ قَالَ هِشَامُ اور اسی سند کے ساتھ ابواسامہ سے مروی ہے، بْنُ عُرْوَةَ فَأَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ لَمَّا کہتے تھے : ہشام بن عروہ نے کہا: میرے باپ نے قُتِلَ الَّذِيْنَ بِبِئْرِ مَعُوْنَةَ وَأُسِرَ عَمْرُو مجھے بتایا، کہا: جب وہ لوگ بئر معونہ میں قتل کئے گئے اور حضرت عمرو بن امیہ ضمری قید کئے گئے تو عامر بْنُ أُمَيَّةَ الصَّمْرِيُّ قَالَ لَهُ عَامِرُ بن طفیل نے ان بن طفیل نے ان سے پوچھا: یہ کون ہے؟ اور اس نے بْنُ الطَّفَيْلِ مَنْ هَذَا فَأَشَارَ إِلَى ایک مقتول کی طرف اشارہ کیا تو عمرو بن امیہ نے قَتِيلٍ فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ جواب دیا: یہ عامر بن فہیرہ ہے۔ عامر بن طفیل نے هَذَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ فَقَالَ لَقَدْ رَأَيْتُهُ کہا کہ میں نے (عامر بن فہیرہ کو) دیکھا کہ وہ قتل بَعْدَ مَا قُتِلَ رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ کئے جانے کے بعد آسمان کی طرف اُٹھائے گئے ہیں یہاں تک کہ میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ آسمان ان حَتَّى إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ بَيْنَهُ کے اور زمین کے درمیان ہے۔ پھر وہ (زمین پر) وَبَيْنَ الْأَرْضِ ثُمَّ وُضِعَ فَأَتَى النَّبِيَّ اُتارے گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی خبر پہنچی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرُهُمْ اور آپؐ نے ان کے قتل کئے جانے کی خبر صحابہ کو فَدَعَاهُمْ فَقَالَ إِنَّ أَصْحَابَكُمْ قَدْ دی اور فرمایا: تمہارے ساتھی شہید ہو گئے ہیں أُصِيبُوا وَإِنَّهُمْ قَدْ سَأَلُوْا رَبَّهُمْ فَقَالُوْا اور انہوں نے اپنے رب سے دعا کی ہے کہ اے ہمارے رب ! ہمارے متعلق ہمارے بھائیوں کو بتا رَبَّنَا أَخْبِرْ عَنَّا إِخْوَانَنَا بِمَا رَضِيْنَا کہ ہم تجھ سے خوش ہو گئے اور تو ہم سے خوش عَنْكَ وَرَضِيْتَ عَنَّا فَأَخْبَرَهُمْ عَنْهُمْ ہوگیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق بتایا اور وَأُصِيْبَ فِيهِمْ يَوْمَئِذٍ عُرْوَةُ بْنُ اس دن ان کے ساتھ عروہ بن اسماء بن صلت بھی أَسْمَاءَ بْنِ الصَّلْتِ فَسُمِّيَ عُرْوَةُ بِهِ شہید ہوئے تھے اور عروہ بن زبیر ) کا نام انہی کے