صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 225 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 225

صحيح البخاری جلد ۸ ۲۲۵ ۶۴ - کتاب المغازی الرِّعَاءِ فَلَمَّا خَرَجَ خَرَجَ مَعَهُمَا چلے آتے۔اس لئے چرواہوں میں سے کوئی بھی يُعْقِبَانِهِ حَتَّى قَدِمَا الْمَدِينَةَ فَقُتِلَ اُن سے آگاہ نہ ہوتا۔جب آنحضرت علی ایم (اور عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ يَوْمَ بِئْرٍ مَعُونَةَ۔حضرت ابوبکر) چلے تو (حضرت عامر بن فہیرہ) بھی ان کے ساتھ چلے۔دونوں انہیں باری باری اپنے پیچھے بٹھا لیتے یہاں تک کہ مدینہ پہنچے۔پھر حضرت عامر بن فہیرہ بئر معونہ کے واقعہ میں شہید ہوئے۔اور حضرت عمرو بن امیہ ضمری قید کئے گئے تو عامر وَعَنْ أَبِي أُسَامَةَ قَالَ قَالَ هِشَامُ اور اس سند کے ساتھ ابو اسامہ سے مروی ہے، بْنُ عُرْوَةَ فَأَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ لَمَّا کہتے تھے : ہشام بن عروہ نے کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا، کہا: جب وہ لوگ بئر معونہ میں قتل کئے گئے قُتِلَ الَّذِيْنَ بِسِتْر مَعُوْنَةَ وَأُسِرَ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ الصَّمْرِيُّ قَالَ لَهُ عَامِرُ بن طفیل نے ان سے پوچھا: یہ کون ہے؟ اور اس نے بْنُ الطُّفَيْلِ مَنْ هَذَا فَأَشَارَ إِلَی ایک مقتول کی طرف اشارہ کیا تو عمرو بن امیہ نے قَتِيلِ فَقَالَ لَهُ عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ جواب دیا: یہ عامر بن فہیرہ ہے۔عامر بن طفیل اپنے هَذَا عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ فَقَالَ لَقَدْ رَأَيْتُهُ کہا کہ میں نے (عامر بن فہیرہ کو) دیکھا کہ وہ قتل بَعْدَ مَا قُتِلَ رُفِعَ إِلَى السَّمَاءِ کئے جانے کے بعد آسمان کی طرف اُٹھائے گئے ہیں حَتَّى إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ بَيْنَهُ یہاں تک کہ میں اب بھی دیکھ رہا ہوں کہ آسمان ان وَبَيْنَ الْأَرْضِ ثُمَّ وُضِعَ فَأَتَى النَّبِيَّ اُتارے گئے۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی خبر پہنچی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَبَرُهُمْ اور آپ نے ان کے قتل کئے جانے کی خبر صحابہ کو فَنَعَاهُمْ فَقَالَ إِنَّ أَصْحَابَكُمْ قَدْ دی اور فرمایا: تمہارے ساتھی شہید ہو گئے ہیں أُصِيْبُوا وَإِنَّهُمْ قَدْ سَأَلُوْا رَبَّهُمْ فَقَالُوا اور انہوں نے اپنے رب سے دعا کی ہے کہ اے ہمارے رب ! ہمارے متعلق ہمارے بھائیوں کو بتا رَبَّنَا أَخْبِرْ عَنَّا إِخْوَانَنَا بِمَا رَضِيْنَا کہ ہم تجھ سے خوش ہو گئے اور تو ہم سے خوش عَنْكَ وَرَضِيْتَ عَنَّا فَأَخْبَرَهُمْ عَنْهُمْ ہو گیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق بتایا اور وَأُصِيْبَ فِيْهِمْ يَوْمَئِذٍ عُرْوَةُ بْنُ اس دن ان کے ساتھ عروہ بن اسماء بن صلت بھی أَسْمَاءَ بْنِ الصَّلْتِ فَسُمِّيَ عُرْوَةُ بِهِ شہید ہوئے تھے اور عروہ بن زبیر ) کا نام انہی کے کے اور زمین کے درمیان ہے۔پھر وہ (زمین پر)