صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 224 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 224

صحیح البخاری جلد ۸ ۲۲۴ ۶۴ - کتاب المغازی عَلَيْهِ الْأَذَى فَقَالَ لَهُ أَقِمْ فَقَالَ يَا ہجرت کر جانے کی اجازت مانگی تو آنحضرت صلی علی ام رَسُولَ اللَّهِ أَتَطْمَعُ أَنْ يُؤْذَنَ لَكَ نے ان سے فرمایا: ٹھہرو۔ حضرت ابو بکر نے پوچھا: فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ يا رسول اللہ ! آپ بھی امید کرتے ہیں کہ آپ کو بھی وَسَلَّمَ يَقُوْلُ إِنِّي لَأَرْجُو ذَلِكَ قَالَتْ اجازت دی جائے گی ؟ رسول اله صل اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: میں بھی یہی امید رکھتا ہوں۔ کہتی فَانْتَظَرَهُ أَبُو بَكْرٍ فَأَتَاهُ رَسُوْلُ اللهِ تھیں: حضرت ابو بکر اس کا انتظار کرتے رہے۔ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ ایک دن ظہر کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظُهْرًا فَنَادَاهُ فَقَالَ أَخْرِجْ مَنْ عِنْدَكَ اِن کے پاس آئے اور آواز دی، آپ نے فرمایا: جو فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ إِنَّمَا هُمَا ابْتَايَ آپ کے ہاں ہوں ان کو باہر بھیج دیں۔ حضرت ابو بکر نے کہا: صرف میری دو بیٹیاں ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: فَقَالَ أَشَعَرْتَ أَنَّهُ قَدْ أَذِنَ لِي فِي کیا آپ کو معلوم ہوا ہے کہ مجھے لگنے کا حکم ہوگیا ہے؟ الْخُرُوجِ فَقَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ الصُّحْبَةَ حضرت ابو بکر نے کہا: یا رسول اللہ ! میں بھی ساتھ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہوں گا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آپ بھی الصُّحْبَةَ قَالَ يَا رَسُوْلَ اللهِ عِنْدِي ساتھ ہوں گے؟ حضرت ابوبکر نے کہا: یا رسول الله ! نَاقَتَانِ قَدْ كُنْتُ أَعْدَدْتُهُمَا لِلْخُرُوجِ میرے پاس دو اونٹنیاں ہیں جن کو میں نے جانے کے لئے تیار کر رکھا ہے چنانچہ ان ؟ ان میں سے ایک فَأَعْطَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صلی اللہ علیہ وسلم کو دی، اس کا نام جدعاء تھا۔ وہ إِحْدَاهُمَا وَهِيَ الْجَدْعَاءُ فَرَكِبَا دونوں روانہ ہو گئے یہاں تک کہ اس غار پر آئے جو فَانْطَلَقَا حَتَّى أَتَيَا الْغَارَ وَهُوَ بِشَوْرٍ ثور پہاڑ میں ہے اور اس میں چھپ گئے۔ حضرت فَتَوَارَيَا فِيْهِ فَكَانَ عَامِرُ بْنُ فَهَيْرَةَ عامر بن فہیرہ جو عبد اللہ بن طفیل بن سخبرہ کے غلام غُلَامًا لِعَبْدِ اللهِ بْنِ الطَّفَيْلِ بْنِ تھے جو حضرت عائشہ کے ماں کی طرف سے بھائی تھے اور حضرت ابو بکر کی ایک دو دھیل اونٹنی تھی جس کو سَخْبَرَةَ أَخُو عَائِشَةَ لِأُمِّهَا وَكَانَتْ حضرت عامر بن فہیرہ صبح چرانے کے لئے لے لِأَبِي بَكْرٍ مِنْحَةٌ فَكَانَ يَرُوْحُ بِهَا جاتے اور شام کو اُن کے پاس لے آتے تھے۔ وہ وَيَغْدُو عَلَيْهِمْ وَيُصْبِحُ فَيَدَّلِجُ إِلَيْهِمَا صبح کو اُٹھتے اور تھوڑی رات رہے دونوں کے پاس ثُمَّ يَسْرَحُ فَلَا يَفْطُنُ بِهِ أَحَدٌ مِنَ جاتے اور صبح ہونے سے پہلے پہلے (چرا گاہ میں)