صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 223
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۲۳ ۶۴ - کتاب المغازی فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تب نبی صلی اللہ علیہ وسلم تیس دن ہر صبح ان کے عَلَيْهِمْ ثَلَاثِينَ صَبَاحًا عَلَى رِعْلٍ خلاف دعا کرتے رہے یعنی رعل ، ذکوان، بنولحیان وَذَكْوَانَ وَبَنِي لَحْيَانَ وَعُصَيَّةَ الَّذِينَ اور عصیہ کے خلاف۔ جنہوں نے اللہ اور اس کے عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بغاوت کی۔ وَسَلَّمَ۔ اطرافه ۱۰۰۱ ۱۰۲ ۱۰۰۳ ۱۳۰۰، ۲۸۰۱، ۲۸۱۴، ۳۰۶۴، ۳۱۷۰، ۴۰۸۸، ۴۰۸۹، ۴۰۹۰ ۷۳۴۱،۶۳۹۴ ،۴۰۹۶ ،۴۰۹۵ ،۴۰۹۴ ،۴۰۹۲ ٤٠٩٢ : حَدَّثَنِي حِبَّانُ أَخْبَرَنَا ۴۰۹۲ حبان ( بن موسیٰ) نے مجھ سے بیان کیا کہ عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ قَالَ حَدَّثَنِي عبد اللہ نے ہمیں خبر دی۔ معمر نے ہمیں بتایا۔ ثُمَامَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ أَنَّهُ سَمِعَ انہوں نے کہا: ثمامہ بن عبد اللہ بن انس نے مجھ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک لَمَّا طُعِنَ حَرَامُ بْنُ مِلْحَانَ وَكَانَ رضی اللہ عنہ سے سنا، کہتے تھے : جب حضرت حرام خَالَهُ يَوْمَ بِئْرِ مَعُونَةَ قَالَ بِالدَّمِ بن ملحان کے یوم بئر معونہ میں نیزہ مارا گیا اور وہ هَكَذَا فَنَضَحَهُ عَلَى وَجْهِهِ وَرَأْسِهِ حضرت انس کے ماموں تھے تو انہوں نے خون اپنے ہاتھ میں یوں لیا اور اپنے منہ اور اپنے سر پر ثُمَّ قَالَ فُرْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ۔ (یوں) چھڑکا اور اس کے بعد کہا: کعبہ کے ربّ کی قسم ! میں نے مراد پالی۔ اطرافه: ۱۰۰۱ ۱۰۲ ۱۰۰۳، ۱۳۰۰، ۲۸۰۱، ۲۸۱۴، ۳۰۶۴، ۳۱۷۰، ۴۰۸۸، ۴۰۸۹، ۴۰۹۰ ۷۳۴۱،۶۳۹۴ ،۴۰۹۶ ،۴۰۹۵ ،۴۰۹۴ ،۴۰۹۱ ٤٠٩٣ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ۴۰۹۳: عبید بن اسماعیل نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ہشام بن عروہ) سے ، انہوں نے اپنے باپ سے ، ان کے باپ نے عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی۔ کہتی اسْتَأْذَنَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تھیں : حضرت ابو بکرؓ کو ۔ : حضرت ابو بکر کو جب مکہ میں سخت تکلیف أَبُو بَكْرٍ فِي الْخُرُوجِ حِيْنَ اشْتَدَّ دی گئی تو آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے (مکہ سے)