صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 16 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 16

صحيح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی مذکورہ بالا آیت کا ترجمہ یہ ہے کہ اے مسلمانو! تم اس وقت کو یاد کر وجب اللہ تم سے دو گروہوں میں سے ایک گروہ کا وعدہ کر تا تھا کہ وہ تمہیں دیا جائے گا اور تم چاہتے تھے کہ وہ گروہ جو غیر مسلح ہے (یعنی ابوسفیان والا تجارتی قافلہ) تم کو حاصل ہو اور اللہ چاہتا تھا کہ وہ حق کو اپنے احکام کے ذریعہ حق ثابت کر دے اور کافروں کی جڑ کاٹ دے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو الہی منشاء کا پورا علم تھا۔لیکن مصلح آپ نے صحابہ سے اصل منشا مخفی رکھا۔اس وجہ سے صحابہ کرام نے قیاس کیا کہ چڑھائی کا مقصد ابو سفیان والے قافلے کو روکنا ہے جو بغیر کسی مسلح حفاظتی دستہ کے شام سے مکہ کی طرف آرہا تھا۔مذکورہ بالا آیت قرآنی میں جو لفظ تودُّونَ آیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صحابہ کرام کی یہی خواہش تھی کہ شام سے آنے والے قافلہ کو روکا جائے جس کے اموال سے قریش مکہ نے جنگی تیاری میں مدد لینی تھی۔کیونکہ اگر قافلہ منزل مقصود تک پہنچنے سے پہلے روک دیا جاتا تو قریش مکہ کا جنگی تیاری کا منصوبہ وقتی طور پر ختم ہو سکتا تھا۔لیکن الہی منشاء یہ تھا کہ واقعہ بدر کو حق اور باطل کے درمیان فرقان بنائے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِى اُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَةٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ (البقرة: ۱۸۶) یعنی رمضان کا مہینہ اس شان کا مالک ہے کہ اس میں قرآن کریم نازل کیا گیا تا وہ لوگوں کی ہدایت کا موجب ہو اور ہدایت اور فرقان کے کھلے کھلے نشان اس میں نازل کئے جائیں۔چنانچہ غزوہ بدر کے لئے کوچ اسی مہینہ میں کیا گیا اور فتح مکہ کا عظیم نشان بھی اسی مہینہ میں ظاہر ہوا اور ہر جنگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ماہ رمضان میں لڑنی پڑی کفارِ مکہ کی شکست فاش کا موجب ہوئی اور اس شکست نے ثابت کر دیا کہ مسلمان حق پر ہیں اور کفار نے باطل کا راستہ اختیار کیا ہوا ہے۔یہ وہ فرقان تھا جس کا ذکر مندرجہ بالا آیت میں کیا گیا اور آیات متعلقہ جنگ بدر میں بھی غزوہ بدر کا نام یوم الفرقان رکھا یعنی حق و باطل کو اچھی طرح کھول کر رکھ دینے والا۔جنگ بدر سے متعلق آیات یہ ہیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : إِن كُنتُمْ آمَنْتُم بِاللهِ وَمَا اَنْزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا يَوْمَ الْفُرْقَانِ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعِنِ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قديره اذ انتُم بِالْعُدُوَةِ الدُّنْيَا وَهُمْ بِالْعُدُوَةِ الْقُصوى وَالرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَلَوْ تَوَاعَدتُمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِي المبعْدِ وَلَكِنْ لِيَقْضِيَ اللهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولاً (الأنفال: ۴۲، ۴۳) یعنی اگر تم اللہ پر ایمان لاتے ہو اور اس پر بھی جو ہم نے اپنے بندہ پر حق و باطل میں فیصلہ کر دینے والے دن میں نازل کیا تھا جس دن کہ دونوں لشکر جمع ہوئے تھے (تو اس پر عمل کرو) اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔اس دن جبکہ تم (میدانِ جنگ کے ) اور لے کنارہ پر تھے اور کافر پر لے کنارے پر تھے اور قافلہ تم سے نیچے کی طرف تھا اور اگر تم ان سے وعدہ بھی کرتے تو تم ( جنگ کے ) وقت کے بارہ میں ان سے اختلاف کرتے۔لیکن خدا نے تم کو جمع کر دیا تھا کہ وہ ) اس بات کو پورا کر دے جس کے کرنے کا اس نے فیصلہ کر دیا تھا۔پس یہ خیال کرنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم منشاء الہی کو نہیں سمجھ رہے تھے۔ایک نہایت ہی غلط خیال ہے اور اس واضح وحی کے خلاف جس کا ذکر رمضان سے متعلق آیات میں کھلے الفاظ میں کیا گیا ہے۔