صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 222
صحيح البخاری جلد ۸ ۲۲۲ ۶۴ - کتاب المغازی عَلَى ظَهْرٍ فَرَسِهِ فَانْطَلَقَ حَرَامٌ اونٹ کو ہوئی تھی، میرا گھوڑالا ؤ۔(وہ اس پر سوار أَخُو أُمّ سُلَيْمٍ وَهُوَ رَجُلٌ أَعْرَجُ ہوا) اور اپنے گھوڑے کی پیٹھ پر ہی مر گیا۔حضرت وَرَجُلٌ مِنْ بَنِي فَلَانٍ قَالَ كُونَا قَرِيبًا اتم سلیم کے بھائی حضرت حرام (بن ملحان)، ایک لنگڑے آدمی اور ایک اور آدمی کو جو فلاں قبیلہ حَتَّى آتِيَهُمْ فَإِنْ آمَنُونِي كُنْتُمْ وَإِنْ سے تھا، اپنے ساتھ لے کر (بنی عامر کے پاس) قَتَلُونِي أَتَيْتُمْ أَصْحَابَكُمْ فَقَالَ گئے۔حرام نے ان دونوں سے کہا: تم قریب ہی أَتُؤَمِنُونِي أُبَلِّغْ رِسَالَةَ رَسُوْلِ اللهِ رہتا، میں ان کے پاس جاتا ہوں۔اگر انہوں نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ مجھے امن دیا تو تم آجانا اور اگر مجھے قتل کر دیا تو تم اپنے ساتھیوں کے پاس جاکر انہیں بتانا۔پھر يُحَدِّثُهُمْ وَأَوْمَنُوا إِلَى رَجُلٍ فَأَتَاهُ مِنْ حضرت حرام نے عامر کے پاس جا کر کہا: کیا تم خَلْفِهِ فَطَعَنَهُ قَالَ هَمَّامٌ أَحْسِبُهُ حَتَّى مجھے امن دیتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا أَنْفَذَهُ بِالرُّمْح قَالَ اللهُ أَكْبَرُ فُزْتُ پیغام پہنچا دوں؟ یہ کہہ کر وہ اس سے باتیں کرنے وَرَبِّ الْكَعْبَةِ فَلُحِقَ الرَّجُلُ فَقُتِلُوا لگے۔قبیلے کے لوگوں نے ایک شخص کو اشارہ کیا۔وہ كُلُّهُمْ غَيْرَ الْأَعْرَجِ كَانَ فِي رَأْسِ ان کے پیچھے سے آیا اور ان کو نیزہ مار کر زخمی کیا۔ہمام کہتے تھے: میں سمجھتا ہوں کہ اس نے نیزہ ان الْمَنْسُوخ: جَبَلٍ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَلَيْنَا ثُمَّ كَانَ مِنَ کے پار کر دیا۔حضرت حرام نے کہا: اللہ اکبر کعبہ کے رب کی قسم! میں نے اپنی مراد پالی۔پھر وہ لوگ دوسرے آدمی کے پیچھے چلے (اور اسے مار ڈالا اور پھر باقی قاریوں پر جاکر حملہ کر دیا اور ) وہ سارے کے سارے مارے گئے سوا اُس لنگڑے آدمی کے جو پہار کی چوٹی پر چلا گیا تھا۔اللہ نے ہم پر وہ بات نازل کی۔پھر اس کا ذکر اذکار موقوف ہو گیا۔یعنی: "إِنَّا قَدْ لَقِينَا رَبَّنَا فَرَضِيَ عَنَّا ہماری طرف سے ہماری قوم کو کہہ دو کہ ہم اپنے رب سے جاملے ہیں ، وہ ہم سے خوش ہوا اور ہمیں خوش کر دیا۔وَأَرْضَانَا۔" 1 صحیح بخاری کے بعض نسخوں میں یہاں الفاظ حَرَاهُ أَخُو أَمِ سُلَيْمٍ هُوَ وَرَجُلٌ أَعْرَجُ“ ہیں اور یہی درست معلوم ہوتے ہیں۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۴۸۴) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔