صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 219
صحيح البخاری جلد ۸ ۲۱۹ ۶۴ - کتاب المغازی لِحَاجَةٍ يُقَالُ لَهُمُ الْقُوَّاءُ فَعَرَضَ لَهُمْ نے ستر آدمی جو قاری تھے ( تبلیغ کی) غرض سے حَيَّانِ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ رِعْلٌ وَذَكْوَانُ بھیجے۔بنی سکیم کے دو قبیلوں رعل اور ذکوان نے عِنْدَ بِتْرٍ يُقَالُ لَهَا بِئْرُ مَعُوْنَةَ فَقَالَ ان سے ایک کنوئیں کے پاس جسے بئر معونہ کہتے الْقَوْمُ وَاللهِ مَا إِيَّاكُمْ أَرَدْنَا إِنَّمَا نَحْنُ تھے ، تعرض کیا۔ان لوگوں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم مُجْتَازُوْنَ فِي حَاجَةٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ تمہارے قصد سے نہیں آئے بلکہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک کام کے لئے آگے جارہے ہیں عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَتَلُوهُمْ فَدَعَا النَّبِيُّ مَر انہوں نے ان کو قتل کر ڈالا۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ شَهْرًا ان کے خلاف ایک مہینہ بھر صبح کی نماز میں دعا فِي صَلَاةِ الْغَدَاةِ وَذَلِكَ بَدْءُ الْقُنُوتِ کرتے رہے اور دعائے قنوت کی یہی ابتداء تھی وَمَا كُنَّا نَقْنُتُ۔اور ہم پہلے قنوت نہیں پڑھا کرتے تھے۔قَالَ عَبْدُ الْعَزِيزِ وَسَأَلَ رَجُلٌ عبد العزيز ( بن صہیب) نے (اسی سند سے ) یہ کہا أَنَسًا عَنِ الْقُنُوتِ أَبَعْدَ الرُّكُوعِ أَوْ اور ایک شخص نے دعائے قنوت کی نسبت حضرت عِنْدَ فَرَاغِ مِنَ الْقِرَاءَةِ قَالَ لَا بَلْ انسؓ سے پوچھا: آیا رکوع کے بعد ہے یا قرآت عِنْدَ فَرَاغَ مِنْ الْقِرَاءَةِ۔سے فارغ ہونے پر ؟ انہوں نے کہا: نہیں بلکہ قرآت سے فارغ ہونے پر (رکوع سے پہلے )۔اطرافه ۱۰۰۱، ۱۰۰۲ ۱۰۰۳ ۱۳۰۰، ۲۸۰۱، ۲۸۱۴، ۳۰۶۴، ۴۰۸۹،۳۱۷۰، ۰۹۰ ۷۳۴۱،۶۳۹۴ ،۴۰۹۶ ،۴۰۹۵ ،۴۰۹۴ ٤٠٨٩: حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ حَدَّثَنَا هِشَامٌ ۴۰۸۹ مسلم بن ابراہیم) نے ہمیں بتایا کہ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَنَتَ ہشام نے ہم سے بیان کیا، (کہا:) قتادہ نے ہمیں رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بتایا کہ حضرت انسسؓ سے مروی ہے۔انہوں نے شَهْرًا بَعْدَ الرُّكُوعِ يَدْعُو عَلَى کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع کے بعد أَحْيَاءٍ مِنَ الْعَرَبِ۔قنوت میں مہینہ بھر عرب کے چند قبیلوں کے خلاف دعا کرتے رہے۔اطرافه : ۱۰۰۱ ۱۰۰۲ ۱۰۰۳ ۱۳۰۰، ۲۸۰۱، ۲۸۱۴، ۳۰۶۴، ۳۱۷۰، ۴۰۸۸، ۴۰۹۰، ۴۰۹۱، ۴۰۹۲، - ۷۳۴۱ ،۱۳۹۴ ،۴۰۹۶ ،۴۰۹۵ ،۴۰۹۴