صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 218 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 218

صحیح البخاری جلد ۸ ۲۱۸ ۶۴ - کتاب المغازی وَذَلِكَ فِي ذَاتِ الْإِلَهِ وَإِنْ يَشَأْ اور میری یہ موت اپنے معبود کی ذات کے لئے ہے اور اگر وہ چاہے تو اس ٹکڑے ٹکڑے کئے ہوئے يُبَارِكْ عَلَى أَوْصَالِ شِلْوِ مُمَزَّعِ جسم کے جوڑوں کو برکت دے دے۔ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ عُقِبَةُ بْنُ الْحَارِثِ پھر اس کے بعد عقبہ بن حارث اُٹھ کر اُن کی فَقَتَلَهُ وَبَعَثَتْ قُرَيْسٌ إِلَى عَاصِمٍ طرف آیا اور اس نے ان کو قتل کر دیا۔ادھر لِيُؤْتَوْا بِشَيْءٍ مِنْ جَسَدِهِ يَعْرِفُوْنَهُ قریش نے کیا کیا کہ حضرت عاصم بن ثابت) کی وَكَانَ عَاصِمٌ قَتَلَ عَظِيمًا مِنْ لاش پر لوگوں کو بھیجا کہ حضرت عاصم کے بدن عُظَمَائِهِمْ يَوْمَ بَدْرٍ فَبَعَثَ اللَّهُ عَلَيْهِ سے کوئی حصہ لے آئیں تاکہ ان کو پہچان لیں اور مِثْلَ الظُّلَّةِ مِنَ الدَّيْرِ فَحَمَتْهُ مِنْ حضرت عاصم نے جنگ بدر میں اُن کے سرداروں رُسُلِهِمْ فَلَمْ يَقْدِرُوْا مِنْهُ عَلَى شَيْءٍ میں سے ایک بہت بڑے سردار کو قتل کیا تھا۔اللہ نے زنبوروں (بھڑوں) کی فوج بادل کی طرح اطرافه ۳۰۴۵، ۳۹۸۹، ۷۴۰۲ بھیج دی جس نے حضرت عاصم (کے بدن) کو اُن کے بھیجے ہوئے آدمیوں سے بچایا اور وہ اُن کے بدن کا کوئی حصہ نہ لے سکے۔٤٠٨٧ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بنُ :۴۰۸۷ عبد الله بن محمد (مسندی) نے ہم سے مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو سَمِعَ بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔عمرو جَابِرًا يَقُولُ الَّذِي قَتَلَ حُبَيْبًا هُوَ ( بن دینار) سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت جابر سے سنا۔کہتے تھے : جس نے حضرت خبیب أَبُو سِرْوَعَةَ۔کو قتل کیا تھا وہ ابو سروعہ (عقبہ بن حارث) تھا۔٤٠٨٨ : حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا ۴۰۸۸ ابو معمر نے ہمیں بتایا کہ عبد الوارث عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ (بن سعید) نے ہم سے بیان کیا کہ عبد العزیز (بن أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ مہیب نے ہمیں بتایا کہ حضرت انس رضی اللہ عنہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِيْنَ رَجُلًا سے مروی ہے۔انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم