صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 217
صحيح البخاری جلد ۸ ۲۱۷ ۶۴ - کتاب المغازی فَغَفَلْتُ عَنْ صَبِيّ لِي فَدَرَجَ إِلَيْهِ کیا کہ وہ قتل کر دیئے جائیں۔حضرت خبیب نے حَتَّى أَتَاهُ فَوَضَعَهُ عَلَى فَخِذِهِ فَلَمَّا حارث کی ایک بیٹی سے استر اعاریہ لیا کہ زیر ناف بال صاف کریں۔اس نے انہیں دے دیا۔وہ رَأَيْتُهُ فَزِعْتُ فَرْعَةً عَرَفَ ذَاكَ مِنِّي کہتی تھیں : میں نے اپنے ایک بچے کا دھیان نہ رکھا وَفِي يَدِهِ الْمُوسَى فَقَالَ أَتَخْشَيْنَ أَنْ تو وہ خبیب کے پاس رینگتا ہوا چلا گیا جب ان کے أَقْتُلَهُ مَا كُنْتُ لِأَفْعَلَ ذَاكِ إِنْ شَاءَ پاس آیا تو انہوں نے اسے اپنی ران پر بٹھا لیا جب اللَّهُ وَكَانَتْ تَقُوْلُ مَا رَأَيْتُ أَسِيرًا میں نے یہ دیکھ تو اتنی گھبرا گئی کہ حبیب یہ گھبراہٹ قَطُّ خَيْرًا مِنْ جُبَيْبٍ لَقَدْ رَأَيْتُهُ سمجھ گئے، ان کے ہاتھ میں استرا تھا، وہ کہنے لگے : تم ڈرتی ہو کہ میں اسے مار ڈالوں گا۔انشاء اللہ میں يَأْكُلُ مِنْ قِطْفِ عِنَبِ وَمَا بِمَكَّةَ کبھی ایسا نہ کروں گا اور کہتی تھیں : میں نے خبیب يَوْمَئِذٍ ثَمَرَةٌ وَإِنَّهُ لَمُوثَقٌ فِي الْحَدِيْدِ سے زیادہ اچھا کوئی قیدی نہیں دیکھا۔میں نے خود وَمَا كَانَ إِلَّا رِزْقٌ رَزَقَهُ اللَّهُ فَخَرَجُوا انہیں خوشه انگور سے انگور کھاتے دیکھا ہے بحالیکہ ان دنوں مکہ میں کوئی میوہ نہ تھا اور وہ زنجیر میں بِهِ مِنَ الْحَرَمِ لِيَقْتُلُوْهُ فَقَالَ دَعُونِي جکڑے ہوئے تھے اور وہ ایسا ہی کوئی رزق تھا جو أُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْهِمْ اللہ نے اُن کو دیا۔لوگ ان کو لے کر حرم سے باہر فَقَالَ لَوْلَا أَنْ تَرَوْا أَنَّ مَا بِي جَزَعٌ گئے تا انہیں قتل کر دیں۔انہوں نے کہا: مجھے چھوڑ مِنَ الْمَوْتِ لَزِدْتُ فَكَانَ أَوَّلَ مَنْ دو کہ دو رکعتیں نماز پڑھ لوں۔پھر نماز سے فارغ سَنَّ الرَّكْعَتَيْنِ عِنْدَ الْقَتْلِ هُوَ ثُمَّ قَالَ ہو کر ان کے پاس آگئے اور کہنے لگے: اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ تم سمجھو گے کہ مجھے موت کی :۔اللَّهُمَّ أَحْصِهِمْ عَدَدًا ثُمَّ قَالَ: ھبراہٹ ہے تو میں اپنی اسی حالت میں) اور (نماز) پڑھتا۔وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے قتل کے وقت دو رکعت پڑھنے کی سنت قائم کی۔پھر انہوں نے کہا: اے اللہ ! ان میں سے ایک بھی باقی نہ رہنے پائے۔پھر انہوں نے یہ شعر پڑھے : مَا إِنْ أُبَالِي حِيْنَ أَقْتَلُ مُسْلِمًا میں جبکہ فرمانبردار ہونے کی حالت میں مارا جارہا ہوں تو مجھے اس بات کی کیا پر واہ کہ اللہ کے لئے عَلَى أَيْ شِقٍ كَانَ لِلَّهِ مَصْرَعِي کس کروٹ پر گروں