صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 216 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 216

صحیح البخاری جلد ۸ ۲۱۶ ۶۴ - كتاب المغازی إِلَى فَدْفَدٍ وَجَاءَ الْقَوْمُ فَأَحَاطُوْا بِهِمْ پر اُن کے پیچھے چلتے گئے یہاں تک کہ اُن سے فَقَالُوْا لَكُمُ الْعَهْدُ وَالْمِيْنَاقُ إِنْ جاملے۔ جب حضرت عاصم اور اُن کے ساتھی ان نَزَلْتُمْ إِلَيْنَا أَنْ لَّا نَقْتُلَ مِنْكُمْ رَجُلًا کے مقابلہ سے رہ گئے تو انہوں نے ایک ٹیلے پر جا کر پناہ لی اور یہ تیر انداز بھی آپہنچے اور اُن کو چاروں فَقَالَ عَاصِمٌ أَمَّا أَنَا فَلَا أُنْزِلُ فِي طرف سے گھیر لیا اور گھیر لیا اور کہنے لگے : تم سے ہے سے یہ عہد و پیمان ذِمَّةِ كَافِرِ اللَّهُمَّ أَخْبِرْ عَنَّا نَبِيَّكَ ہے کہ اگر تم اتر کر ہمارے پاس آجاؤ تو ہم تم میں فَقَاتَلُوْهُمْ حَتَّى قَتَلُوْا عَاصِمًا فِي سے کسی شخص کو قتل نہیں کریں گے۔ حضرت عاصم سَبْعَةِ نَفَرٍ بِالنَّيْلِ وَبَقِيَ حُبَيْبٌ نے کہا: میں تو کسی کافر کی پناہ میں نہیں اتروں گا۔ وَزَيْدٌ وَرَجُلٌ آخَرُ فَأَعْطَوْهُمُ الْعَهْدَ اے اللہ ! اپنے نبی کو ہمارے متعلق خبر دے۔ وہ اُن سے لڑے، آخر انہوں نے تیروں سے حضرت وَالْمِيْثَاقَ فَلَمَّا أَعْطَوْهُمُ الْعَهْدَ عاصم کو جمع سات آدمیوں کے مار ڈالا اور حضرت وَالْمِيْثَاقَ نَزَلُوْا إِلَيْهِمْ فَلَمَّا اسْتَمْكَنُوا خَبِیب، حضرت زید اور ایک اور شخص بچ رہے۔ مِنْهُمْ حَلُّوْا أَوْتَارَ قِسِيِّهِمْ فَرَبَطُوْهُمْ تیر اندازوں نے اُن کو عہد و پیمان دیا اور وہ ان کے بِهَا فَقَالَ الرَّجُلُ الثَّالِثُ الَّذِي عهد و پیمان دینے پر ان کے پاس آگئے۔ جب مَعَهُمَا هَذَا أَوَّلُ الْغَدْرِ فَأَبَى أَنْ انہوں نے انہیں قابو میں کر لیا تو اپنی کمانوں کی تانیں کھولیں اور اُن سے ان کو جکڑ دیا۔ یہ دیکھ کر يَصْحَبَهُمْ فَجَرَّرُوْهُ وَعَالَجُوْهُ عَلَى تیسرا شخص جو اُن کے ساتھ تھا بولا: یہ تم تھا بولا: یہ تمہاری پہلی أَنْ يَصْحَبَهُمْ فَلَمْ يَفْعَلْ فَقَتَلُوهُ بد عہدی ہے۔ چنانچہ اس نے ان کے ساتھ جانے وَانْطَلَقُوْا بِخُبَيْبٍ وَزَيْدٍ حَتَّى بَاعُوهُمَا سے انکار کر دیا۔ تب انہوں نے اس کو گھسیٹا اور بِمَكَّةَ فَاشْتَرَى حُبَيْبًا بَنُو الْحَارِثِ اس سے کشمکش کی کہ ان کے ساتھ چلے لیکن وہ نہ بْنِ عَامِرِ بْنِ نَوْفَلٍ وَكَانَ حُبَيْبٌ هُوَ گیا، آخر انہوں نے اسے مار ڈالا اور حضرت خبیب قَتَلَ الْحَارِثَ يَوْمَ بَدْرٍ فَمَكَثَ اور حضرت زید کو لے کر چل دیئے اور ان دونوں کو مکہ میں بیچ ڈالا۔ حضرت خبیب کو حارث بن عامر عِنْدَهُمْ أَسِيرًا حَتَّى إِذَا أَجْمَعُوْا قَتْلَهُ بن نوفل کے بیٹوں نے خرید لیا اور حضرت خبیب اسْتَعَارَ مُوسَى مِنْ بَعْضِ بَنَاتِ نے ہی حارث کو جنگ بدر میں قتل کیا تھا، وہ ان الْحَارِثِ لِيَسْتَحِدَّ بِهَا فَأَعَارَتْهُ قَالَتْ کے پاس قیدی رہے یہاں تک کہ سب نے اتفاق