صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 214
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۱۴ ۶۴ - کتاب المغازی عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔ یزید نے ابوالخیر (مرثد ) صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا سے، ابوالخیر نے حضرت عقبہ بن عامر) سے فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ آئے اور اُحد والوں کی نماز جنازہ اسی طرح پڑھی إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ جس طرح کہ میت کی پڑھا کرتے تھے، پھر آپ وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ وَإِنِّي منبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہارا پیش رو ہوں اور میں تمہارے لئے گواہی دوں گا اور میں أُعْطِيتُ مَفَاتِيحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ أَوْ مَفَاتِيحَ الْأَرْضِ وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئی ہیں یا (فرمایا:) عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوا بَعْدِي وَلَكِنِّي زمین کی چابیاں اور فرمایا: اللہ کی قسم ! تمہارے أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوْا فِيْهَا۔ متعلق مجھے یہ خوف نہیں کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے بلکہ تمہارے متعلق اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں تم دنیا میں ایک دوسرے سے بڑھ کر حرص نہ کرنے لگو۔ اطرافه: ۱۳۴۴، ۳۵۹۶، ۴۰۴۲، ۶۴۲۶، ۶۵۹۰ تشریح : أمل کا ابدی نشان ہے۔ أحدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ : احد سے محبت کی وجہ ظاہر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی کی قدرت نمائی وَمَا حُبُّ الدِّيَارِ شَغَفْنَ قَلْبِي وَلَكِنْ حُبُّ مَنْ سَكَنَ الدِّيَارَا (فتح البارى، كتاب الجهاد و السیر، باب ۷۴: من غزا بصبي للخدمة، جزء ۶ صفحه ۱۰۷) میرے دل میں شہروں کی محبت نہیں بلکہ ان لوگوں کی محبت ہے جو ان شہروں میں بستے ہیں اس تعلق میں کتاب الحج باب ۵۷، باب ۶۰ بھی دیکھئے۔ نیز دیکھئے کتاب فضائل المدينة ، باب حرم المدينة۔