صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 214 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 214

صحيح البخاری جلد ۸ ۲۱۴ ۶۴ - کتاب المغازی عَنْ أَبِي الْخَيْرِ عَنْ عُقْبَةَ أَنَّ النَّبِيَّ کرتے ہوئے ہمیں بتایا۔یزید نے ابوالخیر (مرثد) صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ يَوْمًا سے، ابوالخیر نے حضرت عقبہ بن عامر) سے فَصَلَّى عَلَى أَهْلِ أُحُدٍ صَلَاتَهُ عَلَى روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر الْمَيِّتِ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى الْمِنْبَرِ فَقَالَ آئے اور اُحد والوں کی نماز جنازہ اسی طرح پڑھی إِنِّي فَرَطٌ لَكُمْ وَأَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمْ جس طرح کہ میت کی پڑھا کرتے تھے ، پھر آپ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا کہ میں تمہارا پیش رو وَإِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى حَوْضِي الْآنَ وَإِنِّي ہوں اور میں تمہارے لئے گواہی دوں گا اور میں أُعْطِيْتُ مَفَاتِيْحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ أَوْ اس وقت اپنے حوض کو دیکھ رہا ہوں اور مجھے زمین مَفَاتِيْحَ الْأَرْضِ وَإِنِّي وَاللَّهِ مَا أَخَافُ کے خزانوں کی چابیاں دی گئی ہیں یا (فرمایا :) عَلَيْكُمْ أَنْ تُشْرِكُوْا بَعْدِي وَلَكِنِي زمین کی چابیاں اور (فرمایا: اللہ کی قسم ! تمہارے أَخَافُ عَلَيْكُمْ أَنْ تَنَافَسُوْا فِيْهَا۔متعلق مجھے یہ خوف نہیں کہ تم میرے بعد مشرک ہو جاؤ گے بلکہ تمہارے متعلق اس بات کا ڈر ہے اطرافه : ۱۳۴۴، ۳۵۹۶، ۴۰۴۲، ۶۴۲۶، ۶۵۹۰ تشريح: کا ابدی نشان ہے۔کہ کہیں تم دنیا میں ایک دوسرے سے بڑھ کر حرص نہ کرنے لگو۔أَحدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَتُحِبُّهُ : احد سے محبت کی وجہ ظاہر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی قدرت نمائی وَمَا حُبُّ الدِّيَارِ شَغَفْنَ قَلى وَلَكِن حُبُّ مَنْ سَكَنَ الدِّيَارًا (فتح البارى، كتاب الجهاد والسير باب ۷۴: من غزا بصبي للخدمة جزء 4 صفحہ ۱۰۷) میرے دل میں شہروں کی محبت نہیں بلکہ ان لوگوں کی محبت ہے جو ان شہروں میں بستے ہیں اس تعلق میں کتاب الحج باب ۷ ۵ ، باب ۶۰ بھی دیکھئے۔نیز دیکھئے کتاب فضائل المدينة، باب حرم المدينة۔