صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 15 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 15

صحیح البخاری جلد ۸ ۱۵ ۶۴ - کتاب المغازی حصہ لیا اور اس امر کو خوب پھیلایا کہ مسلمانوں نے ایک غیر مسلح تجارتی قافلہ ماہ حرم میں لوٹا اور میثاق مدنی بھی توڑا گیا۔ قریش مکہ کے ہاتھ میں یہ واقعہ غزوہ بدر کی تیاری کیلئے ایک بہانہ بن گیا۔ ان کی نیت تو پہلے ہی سے خراب تھی اور وہ شام سے آنے والے اپنے قافلہ کی واپسی کے انتظار میں تھے کہ وہ واپس مکہ پہنچ جائے تو اس کے بعد مدینہ پر حملہ کیا جائے۔ حضرت عبداللہ بن جحش جوا بخش جو اطلاعات ائے اور حکم بن کیسان سے جو معلومات حاصل ہوئیں وہ اگر چہ ایک وقت اگرچہ تک بصیغہ راز رہیں لیکن مسلمانوں میں یہ چرچا ہونے لگا کہ ایک بہت بڑا تجارتی قافلہ ابو سفیان بن حرب کی سرکردگی میں آرہا ہے۔ اس قافلہ میں سامان خوراک بھی تھا اور اسلحہ بھی اور تجارتی سامان بھی کافی مقدار میں موجود تھا۔ قریش مکہ کا منصوبہ جنگ یہ تھا کہ قافلہ کے ذریعہ لائے جانے والے خوراک کے سامان سے اپنے گھر والوں کو سامان رسد دے کر اسلحہ سے لے کر اسلحہ سے لیس ہو کر مدینہ پر چڑھائی کریں۔ اس افواہ کی تحقیق کے لئے آنحضرت صلی علیه یم صلی علیہ سلم نے حضرت عبد اللہ بن جحش کی سرکردگی میں مختصر سی جمعیت بھیجی تھی۔ بعد کے واقعات بتاتے ہیں کہ اس وفد کو جس غرض کے لئے روانہ کیا گیا تھا اس میں ان کو پوری کامیابی ہوئی اور انہوں نے قیدیوں کے ذریعہ سے قریش مکہ کے منصوبہ اور ان کی نقل و حرکت سے متعلق یقینی اطلاعات حاصل کیں۔ حضرمی کے قافلے کا واقعہ ایک ضمنی اور اتفاقی حادثہ تھا اور بعض مؤرخین نے جو اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ اس مہم کے بعض افراد کو مہاجرین کے غصب شدہ اموال کی تلافی کا خیال پیدا ہوا تھا، یہ رائے صحیح نہیں۔ بلکہ اس مہم کا اصل مقصد صرف یہ تھا کہ حضرمی والے قافلے کے ذریعہ ابوسفیان بن حرب کی قیادت میں جانے والے قافلہ کی غرض وغایت اور قریش مکہ کے منصوبہ جنگ کے بارہ میں یقینی معلومات حاصل ہو جائیں اور یہی کام بصیغہ راز اُن کے سپرد کیا گیا تھا۔ اس لئے انہوں نے اس مختصر قافلے کو اپنے قبضہ میں لانے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ یہ خیال بہت دور کا ہے کہ وہ بھیجے تو گئے تھے قریش مکہ کی جنگی تیاریوں سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے لیکن انہوں نے قافلے کے ٹوٹنے پر قناعت کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس ہونے کو کافی سمجھ لیا۔ حضرت عبد اللہ بن س جحش بڑے پایہ کے صحابی تھے تھے اور اور آنحضرت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پھو پھی زاد بھائی۔ آپ نے ایک قابل اعتماد راز دار کو اس مہم کے لئے منتخب فرمایا۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو قریش مکہ کی جنگی تیاریوں کے متعلق علم ہو گیا تو آپؐ نے بھی تیاری شروع کر دی اور اس تیاری میں پوری راز داری سے کام لیا۔ قرآن مجید کی آیت جس کا حوالہ باب ۳ کے عنوان میں دیا گیا ہے۔ یعنی آیت وَ إِذْ يَعِدُكُمُ اللهُ إِحْدَى الطائِفَتَيْنِ أَنَّهَا لَكُمْ وَ تَوَدُّونَ أَنَّ غَيْرَ ذَاتِ الشَّوْكَةِ تَكُونُ لَكُمْ لَكُمْ وَ يُرِيدُ اللهُ أَنْ يُحِقَّ الْحَقِّ بِكَلِمَتِهِ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكَفِرِينَ ) (الأنفال:۸) سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جنگی تیاری میں راز داری سے کام لیا گیا تھا اور صحابہ کرام یہ سمجھتے رہے کہ ابو سفیان والے تجارتی قافلے کا سد راہ ہونا مقصود ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کا منشاء یہ تھا: اول: کفار کو اچھی طرح معلوم ہو جائے کہ وہ مسلمانوں کو نابود نہیں کر سکتے۔ روم: یہ واضح ہو جائے کہ مسلمانوں کا مذہب سچا مذہب ہے اور خد اتعالیٰ ان کی مدد کر رہا ہے۔ سوم: سرغنہ کفر کی جڑ کاٹ دی جائے تا امن قائم ہو اور اسلام ات ائم ہوا اور اسلام کے پھیلنے کے راستے گھل جائیں۔