صحیح بخاری (جلد ہشتم)

Page 212 of 388

صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 212

صحيح البخاری جلد ۸ ۲۱۲ ۶۴ - کتاب المغازی اور حضرت عمرو بن جموح کے نام بھی مذکور ہیں۔رضوان اللہ علیہم۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۴۶۹) حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ ( والد حضرت جابر) کا واقعہ کتاب الجہاد والسیر باب ۲۰ روایت نمبر ۲۸۱۶ میں گزر چکا ہے۔اس باب کے تحت پانچ روایتیں ہیں۔پہلی روایت (نمبر ۴۰۷۸) جو قتادہ سے بصورت موصول مروی ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی ہے جیسا کہ اسی روایت کے دوسرے حصہ سند میں اس کی وضاحت موجود ہے۔مَا نَعْلَمُ حَيًّا مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ اَكْثَرَ شَهِيدًا اَغَرَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: لفظ أَغَر شمیبنی کے نسخہ صحیح بخاری میں ہے۔باقی نسخوں میں بجائے آئمز کے اعز ہے۔یعنی زیادہ معزز اور آغر کے معنی ہیں زیادہ روشن۔(فتح الباری جزء صفحہ ۴۶۹) اس روایت میں جو تعداد ستر شہداء احد کی بتائی گئی ہے، ان میں اکثر انصار مدینہ تھے۔رضی اللہ عنہم۔سیرت ابن ہشام میں چونسٹھ انصار اور چھ مہاجر شہادت پانے والوں کا اسم وار ذکر ہے۔لے جبکہ طبقات ابن سعد میں صرف انصار شہداء کی تعداد ستر مذکور ہے۔واقعہ بئر معونہ کے لئے دیکھئے کتاب الجہاد باب ۹ کتاب المغازی باب ۲۸۔غزوہ یمامہ کا تعلق مسیلمہ کذاب کی جنگ سے ہے جو حضرت ابوبکرؓ کے عہد خلافت میں ہوئی تھی۔اس کے لیے دیکھئے کتاب الجہاد باب ۳۹، کتاب المغازی باب ۲۳۔روایت نمبر ۴۰۷۹ میں شہدائے احد کی تدفین کا ذکر ہے۔اس تعلق میں کتاب الجنائز باب ۷۲ تا ۷۵ و ۷۸ کی تشریح بھی دیکھئے۔روایت نمبر ۴۰۸۰ کی تشریح کے لیے دیکھئے کتاب الجنائز باب ۳۴ باب کی چوتھی روایت (نمبر ۴۰۸۱) میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جس خواب کا ذکر ہے اس کی شرح باب ۱۷ میں گزر چکی ہے۔پانچویں روایت (نمبر ۴۰۸۲) کا اعادہ بطور خاتمہ ہے۔مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللهَ عَلَيْهِ فَمِنْهُمْ مَنْ قَضَى نَحْبَهُ وَمِنْهُمْ مَنْ يَنْتَظِرُ وَمَا بَدَّلُوا تَبْدِيلًا ل (الأحزاب: ۲۴) باب ۲۷ : أَحَدٌ جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ اُحد پہاڑ ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں قَالَهُ عَبَّاسُ بْنُ سَهْلِ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ عباس بن سہل نے ابو محمید سے، ابو حمید نے نبی عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ( الفاظ) نقل کئے۔(السيرة النبوية لابن هشام، ذكر من استشهد بأحد من المهاجرين، جزء ۳ صفحه ۸۶ - ۹۰) (الطبقات الكبرى لابن سعد، من قتل من المسلمين يوم أحد، جزء ۲ صفحه ۴۰) ترجمه حضرت مصلح موعود : ان مومنوں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہوں نے اس وعدہ کو جو انہوں نے اللہ سے کیا تھا سچا کر دیا۔پس بعض تو ایسے ہیں جنہوں نے اپنی نیت کو پورا کر دیا ( یعنی لڑتے لڑتے مارے گئے۔) اور اُن میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو ابھی انتظار کر رہے ہیں اور اپنے ارادہ میں کوئی تزلزل انہوں نے نہیں آنے دیا۔