صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 211
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۱۱ ۶۴ - کتاب المغازی بِهَا رَأْسَهُ وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ ان کا سر ڈھانک دو اور ان کے پاؤں پر اذخر گھاس الْإِذْخِرَ أَوْ قَالَ أَلْقُوا عَلَى رِجْلَيْهِ مِنَ ڈالو يا فرمايا: ان کے پاؤں پر کچھ اذخر ڈال دو اور الْإِذْخِرِ وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ ہم میں سے بعض وہ ہیں جن کا میوہ خوب پک گیا ہے اور وہ اُسے چن رہے ہیں۔فَهُوَ يَهْدِبُهَا۔أطرافه : ۱۲۷۶ ، ۳۸۹۷ ، ۳۹۱۳ ، ۳۹۱۴ ، ۴۰۴۷، ۶۴۳۲، ۶۴۴۸ - ح : مَنْ قُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ أَحْدٍ : عنوانِ باب میں جن صحابہ کرام کی شہادت کا ذکر نمایاں کیا گیا ہے ان کی شجاعت کا نمونہ غیر معمولی ہے۔حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا ذکر باب ۲۳ میں، حضرت مصعب بن عمیر کا ذکر باب ۱۷، روایت نمبر ۴۰۴۵، ۴۰۴۷ میں اور حضرت انس بن نضر کا ذکر باب ۱۷ ہی کی روایت نمبر ۴۰۴۸ نیز کتاب الجہاد باب ۱۲، روایت نمبر ۲۸۰۵ میں گزر چکا ہے۔حضرت انس بن نفر کا نام غلطی سے ابوذر اور نسفی کے نسخوں میں نضر بن انس آیا ہے جو دراصل ان کے بیٹے کا نام ہے۔صحیح بخاری کے باقی نسخوں میں ان کا نام انس بن نضر“ ہی ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۴۶۹) حضرت بیان کا ذکر باب ۱۸، روایت نمبر ۴۰۶۵ میں آچکا ہے۔روایت نمبر ۴۰۴۸ میں گزر چکا ہے کہ حضرت انس بن نضر نے اپنے قبیلہ کے کمزوری دکھانے والوں کی طرف سے معذرت کرتے ہوئے تلوار سونتی اور گھمسان کی لڑائی میں گھس گئے اور شہید ہو گئے۔ان کے بدن پر اتنے زخم تھے کہ پہچانے نہ جاسکے ، ان کی بہن نے ان کی انگلی کے پوروں سے انہیں پہچانا۔رضی اللہ عنہ۔حضرت انس بن نضر حضرت انس بن مالک کے چچا ہیں۔ان کی نسبت محمد بن اسحاق کی روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عمر بن خطاب اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ وغیرہ صحابہ کو دیکھا کہ وہ افسردہ ہیں اور مایوسی کے عالم میں ایک طرف بیٹھے ہیں تو حضرت انس بن نضر) نے پوچھا کہ آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں ؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں تو حضرت انس بن نضر رضی اللہ عنہ نے کہا: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بغیر زندگی کس کام کی۔مُوْتُوْا عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے موت کو گلے لگایا ہے تمہاری موت بھی اسی پر ہو۔یہ کہہ کر انہوں نے کفار پر حملہ کیا اور ان کی تلواروں سے وہ ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔شہدائے اُحد کے مشہور صحابہ میں سے حضرت عبد اللہ بن جبیر سالار دسته جبل عینین ، حضرت سعد بن ربیع، حضرت مالک بن سنان والد حضرت ابو سعید ، حضرت اوس بن ثابت بر اور حضرت حسان، حضرت حنظلہ بن ابی عامر (المعروف بغسیل الملائكة - ملائکہ کے نہلائے ہوئے )، حضرت خارجہ بن زید بن ابی زہیر داماد حضرت ابو بکر صدیق ( السيرة النبوية لابن هشام، غزوة أحد، من شجاعة أصحاب الرسول ، جزء ۳ صفحه (۴۶)