صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 210
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۱۰ ۶۴ - کتاب المغازی هَزَزْتُ سَيْفًا فَانْقَطَعَ صَدْرُهُ فَإِذَا ایک تلوار ہلائی اور اس کا اگلا حصہ ٹوٹ گیا ہے هُوَ مَا أُصِيْبَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ اور اس کی یہی تعبیر تھی جو جنگ اُحد میں مومن أُحَدٍ ثُمَّ هَزَزْتُهُ أُخْرَى فَعَادَ أَحْسَنَ شہید ہوئے ہیں۔ پھر میں نے وہ دوبارہ ہلائی تو وہ مَا كَانَ فَإِذَا هُوَ مَا جَاءَ بِهِ اللَّهُ مِنَ پھر ویسی ہی اچھی ہو گئی جیسی کہ تھی اور اس کی یہی الْفَتْحِ وَاجْتِمَاعِ الْمُؤْمِنِينَ وَرَأَيْتُ تعبیر ہے جو اللہ نے فتح دی اور مومنوں کو اکٹھا فِيهَا بَقَرًا وَاللَّهُ خَيْرٌ فَإِذَا هُمُ کر دیا ہے اور میں نے اس (خواب) میں چند گائیں دیکھیں (جو ذبح ہو رہی تھیں) اور اللہ سراسر الْمُؤْمِنُونَ يَوْمَ أُحُدٍ۔ اطرافه : ۳۶۲۲، ۳۹۸۷، ۷۰۳۵، ۷۰۴۱ بھلائی ہے اور اس کی تعبیر وہی مومن تھے جو جنگ اُحد میں کام آئے۔ ٤٠٨٢ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ۴۰۸۲ احمد بن یونس نے ہم سے بیان کیا۔ زہیر حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ عَنْ (بن معاویہ ) نے ہمیں بتایا کہ اعمش نے شقیق شقیق نے حضرت خباب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، وہ کہتے تھے : ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم شَقِيقٍ عَنْ خَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سے ، هَا جَرْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ کے ساتھ ہجرت کی اور ہم اللہ کی رضا مندی وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ فَوَجَبَ چاہتے تھے اس لئے اللہ کے ذمے ہمارا آجر ہوگیا۔ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ فَمِنَّا مَنْ مَّضَى أَوْ ہم میں سے بعض گزر گئے یا ( کہا:) چلے گئے اور ذَهَبَ لَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا كَانَ اپنی محنت کا کوئی ثمر نہ کھایا۔ حضرت مصعب بن عمیر بھی انہی میں سے تھے جو جنگ اُحد میں مِنْهُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ شہید ہوئے تھے اور انہوں نے سوائے ایک أُحُدٍ فَلَمْ يَتْرُكْ إِلَّا نَمِرَةً كُنَّا إِذَا دھاری دار کملی کے کچھ نہ چھوڑا۔ جب ہم اس غَطَّيْنَا بِهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا سے ان کا سر ڈھانکتے تو ان کے دونوں پاؤں کھل غُطِيَ بِهَا رِجْلَاهُ خَرَجَ رَأْسُهُ فَقَالَ جاتے اور جب پاؤں ڈھانپتے تو اُن کا سر کھل جاتا، لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَطُّوا یہ دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے