صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 209
صحيح البخاری جلد ۸ ۲۰۹ ۶۴ - کتاب المغازی وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ بِدِمَائِهِمْ وَلَمْ يُصَلِّ اُن کو اُن کے خونوں سمیت ہی دفن کرنے کا حکم دیا، عَلَيْهِمْ وَلَمْ يُغَسَلُوا۔نہ اُن کی نماز جنازہ پڑھی اور نہ انہیں غسل دیا۔اطرافه : ۱۳۴۳، ۱۳۴۵، ۱۳۴۶ ، ۱۳۴۸،۱۳۴۷ ، ۱۳۵۳ ٤٠٨٠: وَقَالَ أَبُو الْوَلِيدِ عَنْ :۴۰۸۰ اور ابو الولید نے شعبہ سے، شعبہ نے شُعْبَةَ عَنِ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ قَالَ سَمِعْتُ (محمد) بن منکدر سے نقل کیا، کہتے تھے: میں نے جَابِرًا قَالَ لَمَّا قُتِلَ أَبِى جَعَلْتُ أَبْكِي حضرت جابر سے سنا، انہوں نے کہا: جب میرے وَأَكْشِفُ التَّوْبَ عَنْ وَجْهِهِ فَجَعَلَ باپ شہید ہوئے میں رونے لگا اور ان کے چہرے أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے کپڑا ہٹاتا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ يَنْهَوْنَنِي وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مجھے روکتے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھے) نہیں روکا۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے (حضرت لَمْ يَنْدَ وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَبْكِهِ مَا زَالَتِ الْمَلَائِكَةُ فاطمہ بنت عمرو سے) فرمایا: ان کے لئے نہ رو، یا فرمایا: کیا تم ان پر رو رہی ہو ، بحالیکہ ) جب تُظلُّهُ بِأَجْنِحَتِهَا حَتَّى رُفِعَ۔تک ان کا جنازہ نہیں اُٹھایا گیا ملائکہ ان پر اپنے پروں سے سایہ کئے رہے۔اطرافه ۲۸۱۹،۱۲۹۳،۱۲۴۴ ٤٠٨١ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ۴۰۸۱ محمد بن علاء نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ ابواسامہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے برید بن عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ جَدِهِ عبد اللہ بن ابی بردہ سے، برید نے اپنے دادا ابو بردہ سے، ابو بردہ نے حضرت ابو موسیٰ اشعری) أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔میں سمجھتا ہوں انہوں عَنْهُ أُرَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے، آپ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ فِي رُؤْيَايَ أَنِّي نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا کہ میں نے 1 فتح الباری مطبوعہ بولاق میں اس جگہ الفاظ "لا تبكيه أو ما تبكيه ہیں۔(فتح الباری جزءے حاشیہ صفحہ ۴۶۸) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔