صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 207
صحيح البخاری جلد ۸ ۲۰۷ ۶۴ - کتاب المغازی ہے۔کسی کام کو ایسی خوبی اور پختگی سے کرنا کہ اس میں کمال اور محسن پیدا ہو جائے اور تقویٰ کے معنی ہیں احتیاط بلیغ یعنی انتہائی احتیاط۔آیات متعلقہ واقعہ اُحد میں انہیں دو لفظوں احسان اور تقویٰ کا ذکر کر کے زخمی صحابہ کا عمل سراہا اور ان سے اجر عظیم کا وعدہ کیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے اپنے جہاد کے عمل میں ایک نمایاں حسن پیدا کر دیا اور دفاع اور خود حفاظتی میں احتیاطی تدبیر آخری حد تک پہنچادی تھی۔یادر ہے کہ لفظ احسان کا مفہوم اپنے مدلول کے لحاظ سے بدلتا رہتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت کے تعلق میں اس کا مفہوم یہ بیان فرمایا ہے کہ تو اس طرح عبادت کرے کہ گویا تو معبود کا مشاہدہ کر رہا ہے۔( صحیح البخاری، کتاب الایمان، باب ۳۷، روایت نمبر ۵۰) انفاق فی سبیل اللہ سے متعلق احسان کا مفہوم جذبہ ایثار سے تکمیل پاتا ہے۔اسی طرح جہاد میں اس کا مفہوم اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے نفس کی ایسی قربانی سے مکمل ہوتا ہے، جب احساس خوف والم، طمع و حرص اور شکوہ و شکایت سرمو بھی راہ نہ پاسکیں بلکہ نفس خود فراموشی میں کھویا جائے۔غزوہ اُحد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اسی جذبہ فدائیت کا شاندار نمونہ دکھایا ہے۔مذکورہ بالا آیت ان آخری آیتوں میں سے ہے جو غزوہ احد سے متعلق نازل ہوئی ہیں۔امام بخاری کا ابواب متعلقہ کے خاتمے پر اس آیت کا انتخاب نہایت بر محل ہے کہ اس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے جہاد کی شکل و صورت اپنے کمال حسن کے ساتھ آشکار ہو جاتی ہے۔عَلَيْهِمْ رِضْوَانُ اللهِ جَمِيعًا۔قَامُوا بِاقْدَامِ الرَّسُولِ بِغَزُوهِمْ الْعَاشِقِ الْمَشْخُوفِ فِي الْمَيْدَانِ آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۵۹۱) رسول کریم علی ایم کی پیش قدمی کے ساتھ صحابہ کیوں حملہ آور ہوئے جیسے کوئی عاشق شیدا اپنے معشوق کی طرف بڑھتا ہے۔بَاب ٢٦ : مَنْ قُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ أُحُدٍ جنگ اُحد میں جو صحابہ شہید ہوئے مِنْهُمْ حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ان میں حضرت حمزہ بن عبد المطلب، حضرت یمان، وَالْيَمَانُ وَأَنَسُ بْنُ النَّضْرِ وَمُصْعَبُ حضرت انس بن نضر اور حضرت مصعب بن عمیر بھی تھے۔بْنُ عُمَيْرٍ ٤٠٧٨ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيّ :۴۰۷۸ عمرو بن علی (فلاس) نے ہمیں بتایا کہ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ قَالَ حَدَّثَنِي معاذ بن ہشام نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے أَبِي عَنْ قَتَادَةَ قَالَ مَا نَعْلَمُ حَيًّا مِنْ کہا: میرے باپ نے مجھے بتایا کہ قتادہ سے مروی