صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 206
صحیح البخاری جلد ۸ ۶۴ - کتاب المغازی تہ تیغ کر کے ان کا قصہ تمام کر دیں۔اس خیال کا پیدا ہونا طبعی تھا، اس پر سب کا اتفاق ہو گیا۔ابو سفیان قائد حرب نے مقام حمراء الاسد میں مدینہ پر شب خون مارنے کی تیاری شروع کر دی۔علاوہ ازیں آپ نے دشمن کی نقل و حرکت معلوم کرنے کے لئے خبر رساں بھی بھیجے ہوئے تھے۔آمدہ اطلاعات سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اندیشے کی تصدیق ہوگئی۔دوسرے دن آپ نے صحابہ کرام کو تیاری کے لئے ارشاد فرمایا۔آپ کے اعلانِ تیاری سے مدینہ میں غیر معمولی جوش پیدا ہو گیا۔معبد خزاعی رسول اللہ صلی الم کی خدمت میں حاضر ہوا۔قبیلہ خزاعہ کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق موالاۃ ( دوستی) قائم ہو چکا تھا اور وہ مسلمانوں سے ہمدردی رکھتا تھا۔اس نے صحابہ کرام کے ولولہ انتقام اور تیاری کی صورت کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، بعد ازاں مقام روحاء میں معبد اور ابو سفیان کی ملاقات ہوئی، حالات دریافت کرنے پر معبد نے ابو سفیان کو بتایا کہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تعاقب کے لئے بہت بڑی تیاری کی ہے۔یہ سن کر ابو سفیان کو ہمت نہ ہوئی اور اس نے مکہ مکرمہ کو لوٹنے کے لئے جلدی سے کوچ کیا۔تفصیل کے لئے دیکھئے سیرت خاتم النبیین صلی الله نام صفحه ۵۰۵،۵۰۴۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی زخمی ہونے کے باوجود اس دستہ فوج میں شامل ہوئے اور آپ نے صرف انہی صحابہ کو شریک ہونے کی اجازت دی جو غزوہ اُحد میں شریک ہو چکے تھے۔آیت الَّذِينَ اسْتَجَابُو اللَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمُ ) - آل عمران: ۱۷۳) میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ لوگوں کی اطلاع کے باوجود کہ کفار قریش دوبارہ مدینہ پر حملہ آور ہونے والے ہیں، زخمی صحابہ کی ہمتیں پست نہیں ہوئیں بلکہ بلند تھیں اور انہوں نے موت کی دھمکیوں کی پرواہ نہیں کی بلکہ اللہ اور اس کے رسول صلی للی علم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے مدینہ میں دشمن کا انتظار کرنے کی بجائے وہ حمراء الاسد جا پہنچے مگر میدان خالی پایا۔آپ نے وہاں تین دن قیام فرمایا۔مگر ابو سفیان دوبارہ حملے کی جرات نہ کر سکا۔یہ واقعہ آیت سَنُلْقِي فِي قُلُوبِ الَّذِينَ كَفَرُوا الرُّعْبَ (ال عمران: ۱۵۲) کی مزید تشریح ہے۔محولہ بالا آیت میں دو لفظ ” اَحْسَنُوا“ اور ”انقوا قابل تشریح ہیں۔صحیح بخاری کی اسی شرح میں متعدد بار بتایا جا چکا ہے کہ ہمیں ان الفاظ کا مترادف اردو یا کسی دوسری زبان میں نہیں ملتا۔اختسان عربی میں ایقان کے معنوں میں بولا جاتا (السيرة النبوية لابن هشام، غزوة حمراء الأسد، جزء ۳ صفحه ۶۵ تا ۶۷) المغازي للواقدي: غزوة حمراء الأسد، جزء اول صفحه ۳۳۷، ۳۳۸) (سبل الهدى والرشاد، أبواب المغازي، الباب الرابع عشر في غزوة حمراء الأسد، جزء ۴ صفحه ۳۰۸) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : ”وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور رسول کو لبیک کہا بعد اس کے کہ انہیں زخم پہنچ چکے تھے ، ان میں سے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے احسان کیا اور تقویٰ اختیار کیا بہت بڑا اجر ہے۔“ ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: "ہم ضرور اُن لوگوں کے دلوں میں رعب ڈال دیں گے جنہوں نے کفر کیا۔“