صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 205
صحیح البخاری جلد ۸ ۲۰۵ ۶۴ - کتاب المغازی قَالَتْ لِعُرْوَةَ يَا ابْنَ أُخْتِى كَانَ أَبَوَاكَ جنہوں نے نیک کام کئے اور تقویٰ اختیار کیا، اُن مِنْهُمْ الزُّبَيْرُ وَأَبُو بَكْرٍ لَمَّا أَصَابَ کے لئے بہت بڑا اجر ہو گا۔حضرت عائشہ نے عروہ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا سے کہا: اے میرے بھانجے ! تیرے آباء ز بیر اور أَصَابَ يَوْمَ أُحُدٍ وَانْصَرَفَ عَنْهُ حضرت ابوبکر بھی انہی لوگوں میں سے تھے کہ الْمُشْرِكُوْنَ خَافَ أَنْ يَرْجِعُوْا قَالَ جب جنگ اُحد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوئے اور مشرکین پلٹ گئے تو آپ کو خوف ہوا کہ کہیں وہ پھر نہ کوٹ آئیں۔آپ نے فرمایا: ان کا تعاقب کون کرے گا؟ تو ان میں سے ستر آدمیوں نے اپنے آپ کو پیش کیا۔عروہ کہتے تھے: ان میں حضرت ابو بکر اور حضرت زبیر بھی تھے۔مَنْ يَذْهَبُ فِي إِثْرِهِمْ فَانْتَدَبَ مِنْهُمْ سَبْعُونَ رَجُلًا قَالَ كَانَ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَالزُّبَيْرُ۔تشریح: الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ : اس باب میں جس آیت کا حوالہ دیا گیا ہے وہ بھی غزوہ اُحد کے تعلق میں نازل ہوئی تھی۔پوری آیت یہ ہے: الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَهُمُ الْقَرْحُ : لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا مِنْهُمْ وَاتَّقَوْا أَجْرٌ عَظِيمٌ ) (آل عمران: ۱۷۳) ترجمہ: جن لوگوں نے زخمی ہونے کے بعد اللہ اور رسول کے حکم کی تعمیل کی، وہ جنہوں نے اپنا فرض نہایت ہی اچھی طرح ادا کیا اور تقویٰ اختیار کیا اُن کے لئے بہت بڑا اجر ہے۔اس آیت اور اس کے بعد دو آیتوں میں روایت نمبر ۷۷ ۴۰ ہی کا مضمون بیان ہوا ہے۔حمراء الاسد مدینہ سے آٹھ میل کے فاصلے پر ہے جہاں کفار قریش نے جنگ احد کے بعد قیام کیا اور وہاں ان میں اپنی ناکامی سے متعلق ندامت کا احساس ہوا۔ان میں سے کہنے والوں نے کہا کہ مکہ واپس لوٹ کر کیا کہو گے کہ تین ہزار کے لشکر نے کیا فتح حاصل کی۔فتح کی ایک علامت مالِ غنیمت ہوتا ہے جو مغلوب سے حاصل ہوتا ہے۔بعض نے یہ مشورہ دیا کہ یہاں سے کوٹ کر پھر حملہ کیا جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن کے ٹوٹنے کا احساس ہوا اور آپ نے صحابہ کی ایک جمیعت کفار کے تعاقب کے لئے تیار کی، اس خیال سے کہ مبادا وہ لوٹیں۔سیرت ابن ہشام میں اس تعاقب کا مفصل ذکر ہے۔لکھا ہے کہ قریش کو خیال آیا کہ ہم کس منہ سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں فتح حاصل ہوئی۔نہ محمد علی ) کو مار سکے، نہ ابو بکر و عمر میں سے کوئی) نہ مدینہ والوں میں سے کسی کو ہم نے قید کیا اور نہ مال غنیمت ہاتھ آیا۔فتح کی علامتوں میں سے کوئی علامت بھی نہیں جو ہمارے غلبہ کی دلیل ہو۔بہتر یہ ہو گا کہ ہم یہاں سے واپس ہوں اور مدینہ والوں کی بے خبری میں شہر میں داخل ہو جائیں اور سابقہ منصوبہ کے مطابق انہیں