صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 204
صحيح البخاری جلد ۸ ۲۰۴ ۶۴ - کتاب المغازی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جو الفاظ روایت نمبر ۴۰۷۴،۴۰۷۳ میں منسوب کئے گئے ہیں اُن کا مفہوم بھی وہی غضب الہی ہے جس کا بیان ان آیات میں ہوا ہے۔روایت کے الفاظ۔جس نے نبی کو زخمی کیا یا نبی نے جسے قتل کیا۔سے یہی مراد ہے کہ جو لوگ آپ سے لڑے وہ غضب الہی کے مورد ہوں گے۔امام ابن حجر نے اس باب کی روایات حضرت ابو ہریرۃ و حضرت ابن عباس کے بارے میں اس امر کی طرف توجہ منعطف کی ہے کہ ان دونوں کی روایتیں جیسا کہ سند سے ظاہر ہے مرسل ہیں یعنی دونوں نے یہ نہیں بتایا کہ کس صحابی سے انہوں نے سنا ہے کہ آپ نے غزوہ اُحد میں مذکورہ بالا الفاظ فرمائے تھے جبکہ وہ اس جنگ میں موجود ہی نہ تھے۔اس خامی کے پیش نظر احتیاط یہ چاہتی ہے کہ مذکورہ بالا الفاظ نبوی کا مفہوم آیات قرآن مجید کی روشنی میں سمجھا جائے۔روایت نمبر ۴۰۷۵ حضرت سہل بن سعد سے مروی ہے جو مرفوع ہے اور اس میں عینی شہادت کا ذکر ہے اور مذکورہ بالا الفاظ نہیں ہیں۔امام ابن حجر نے بحوالہ روایت ابی حازم جو طبرانی نے نقل کی ہے، بتایا ہے کہ مشرک میدانِ جنگ سے چلے گئے اور مسلم خواتین مدینہ صحابہ کی امداد کی غرض سے نکلیں۔ان میں حضرت فاطمہ بھی تھیں وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بغل گیر ہوئیں اور انہوں نے آپ کے زخم دھوئے۔زخم کا خون بند ہوتے نہ دیکھ کر چٹائی کا ٹکڑا لیا اور جلا کر اس کی راکھ زخم پر ڈالی جس سے خون بند ہو گیا۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۴۶۶) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم زخمیوں کی دیکھ بھال اور شہداء کی تدفین کے بعد اُسی دن شام کو مدینہ میں مجاہدین سمیت واپس تشریف لائے۔لے بَاب :٢٥ : الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ۔۔۔(آل عمران : ۱۷۳) جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا حکم اپنے زخمی ہونے کے بعد بھی قبول کیا ان میں سے ان کے لیے جنہوں نے اچھی طرح اپنا فرض ادا کیا اور تقویٰ اختیار کیا، بڑا اجر ہے ٤٠٧٧ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ حَدَّثَنَا ۴۰۷۷ : محمد بن سلام) نے ہم سے بیان کیا کہ أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيْهِ ابو معاویہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے ہشام سے، اللَّهُ عَنْهَا: اَلَّذِينَ ہشام نے اپنے باپ (عروہ) سے، انہوں نے عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ آیت اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَ الرَّسُولِ مِنْ بَعْدِ مَا الَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِلَّهِ وَالرَّسُولِ صحابہ سے اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا مِنْهُمُ متعلق ہے) یعنی جن لوگوں نے اللہ اور رسول کی وَاتَّقَوْا أَجْرُ عَظِيمٌ (آل عمران : ۱۷۳) بات مانی بعد اس کے کہ اُن کو زخم پہنچے ، ان میں (السيرة النبوية لابن هشام ، غزوة أحد، جزء ۳ صفحه ۶۴۳۶۲)