صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 203
صحيح البخاری جلد ۸ ٢٠٣ ۶۴ - کتاب المغازی چہرے میں دھنس گئے اور تلوار کے صدمے سے آپ ایک گڑھے میں گر گئے۔حضرت علی اور حضرت طلحہ بن عبید اللہ نے سہارا دے کر آپ کو اٹھایا اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح نے خود کے حلقے اپنے دانتوں سے کھینچ کر نکالے۔مند عبد الرزاق میں ایک روایت ہے کہ آپ کو غزوہ اُحد میں تلوار کے ستر زخم لگے۔یہ روایت مرسل ہے اور اس میں مبالغہ سے کام لیا گیا ہے۔(فتح الباری جزءے صفحہ ۴۶۵) اس قسم کی اور روایتیں بھی ہیں جن میں یہ ذکر ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے زخموں کا خون زمین پر اس وجہ سے گرنے نہیں دیا کہ آسمان سے عذاب نازل ہو جائے گا۔ایسی سب روایتیں ساقط الاعتبار ہیں اور امام بخاری کے معیار صحت کے مطابق صرف مندرجہ بالاروایتیں مستند ہیں۔اس باب کے تحت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے جو روایات منقول ہیں یہ مرسل ہیں کیونکہ وہ دونوں جنگ میں موجود نہ تھے۔(فتح الباری جزء ے صفحہ ۴۶۶) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے الہی وعدہ تھا: وَاللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ (المائدة: ۶۸) کہ اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو موت کے خطرہ سے بچالیا اور اس طرح اپنا وعدہ خارق عادت طور پر پورا فرمایا۔شدید خطرے ہی کی صورت میں وعدہ پورا ہونے کی قادرانہ شان نمایاں ہو سکتی تھی جیسا کہ لفظ عصمت خود خطرے سے بچائے جانے کا مفہوم اپنے اندر رکھتا ہے۔انبیاء علیہم السلام کے ساتھ یہی سنت اللہ ہے کہ انہیں وعدہ کے مطابق شدید خطرے سے بچا کر منکرین پر حجت پوری کی جاتی ہے۔باب ۲۴ کی پہلی دو روایتوں میں غضب الہی کا ذکر کیا گیا ہے۔یہ غضب ہر جنگ میں ظاہر ہوتا رہا کہ دشمن کی ساری امیدیں خس و خاشاک ہوگئیں اور کفار کے سرغنے مارے گئے اور گھر گھر ماتم پڑ گیا اور آخر غزوہ فتح مکہ میں ان کی طاقت بالکل ٹوٹ گئی۔قرآن مجید میں غزوہ اُحد کا نتیجہ ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوا اَوْ يَكْبِتَهُمْ فَيَنْقَلِبُوا خَايِبِينَ (آل عمران: ۱۲۸) ترجمہ: تاکہ اللہ کا فروں کے ایک حصے کو کاٹ دے یا اُن کو ذلیل کر دے کہ وہ ناکام واپس جائیں اور غزوہ بدر کا نتیجہ ان الفاظ میں مذکور ہے: لِيَقْضِيَ اللهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولاً لِيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْ بَيْنَةٍ وَيَحْلِى مَنْ حَيَّ عَنْ بَيِّنَةٍ وَ إِنَّ اللهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ ) (الأنفال : ٤٣) ترجمہ : تاوہ اس بات کو پورا کر دے جس کے کرنے کا اُس نے فیصلہ کر دیا تھا۔(اور یہ نشان اس لئے بھی دکھایا گیا کہ ) تا وہ جو دلیل کے ذریعہ سے ہلاک ہو ، ہلاک ہو جائے اور جو دلیل کے ذریعہ سے زندہ ہو، زندہ ہو جائے اور اللہ یقیناً بہت سننے والا اور بہت جاننے والا ہے۔و (السيرة النبوية لابن هشام، غزوة أحد، ما أصاب الرسول الله يوم أحد، جزء۳ صفحه ۴۳، ۴۴) (مصنف عبد الرزاق، کتاب المغازي، وقعة أحد روایت نمبر ۹۷۳۶، جزء ۵ صفحه ۳۶۶) (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية، كتاب المغازي، غزوة أحد، جزء ۲ صفحه ۴۲۸)