صحیح بخاری (جلد ہشتم) — Page 14
صحیح البخاری جلد ۸ ۱۴ ۶۴ - کتاب المغازی ٹوٹنے کی غرض سے گھات میں نہ ہوں۔ وہ ایک دوسرے کو پہچانتے تھے کیونکہ سب مکہ کے رہنے والے تھے اور مسلمانوں کی مہم میں انصارِ مدینہ میں سے کوئی انصاری نہ تھا۔ قریش کے قافلہ نے مسلمانوں کے قرب وجوار میں پڑاؤ کیا۔ لیکن وہ مسلمانوں کی طرف سے بے خوف نہ تھے اور ڈرتے تھے کہ موقع پا کر مسلمان حملہ نہ کر دیں۔ ان کے خوف کو دور کرنے کے لیے مسلمانوں میں سے حضرت عکاشہ بن محصن" کو ایک تدبیر سو جبھی جس سے قافلہ والے ان کی طرف سے مطمئن ہو جائیں۔ چنانچہ وہ اپنا سر منڈوا کر ایسی جگہ سے گزرے جہاں قافلہ والے انہیں بخوبی دیکھ سکتے تھے۔ ان کا سر منڈا ہوا دیکھ کر قریش یہ سمجھے کہ یہ لوگ عمرہ کی غرض سے بیت اللہ آئے ہیں کیونکہ یہ رجب کے آخری دن تھے اور اس مہینہ میں عمرہ مستحب سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ قافلہ والے مطمئن ہو گئے۔ اس قافلے میں رؤساء قریش میں سے (خالد بن ولید کے دادا مغیرہ بن عبد اللہ کے بھائی) عثمان بن عبد اللہ اور نوفل بن عبد اللہ نیز عمرو بن حضرمی سردار قافلہ کے سوا اور کسی کا ذکر نہیں آیا۔ حضرمی، حرب بن امیہ (رئیس اعظم مکہ ) کا حلیف تھا۔ بعض رؤساء مکہ نے مہاجرین کے اموال ضبط کئے ہوئے تھے جس کی وجہ سے بعض مؤرخین کا خیال ہے کہ حضرت عبداللہ بن جحش کے ساتھیوں کو انتظام کا خیال پیدا ہوا اور گر ز فہری کا واقعہ ان کے ذہنوں میں تازہ تھا۔ حضرت سعد اور حضرت عتبہ کی عدم دستیابی بھی ان کے لئے تشویش کا باعث تھی۔ چونکہ عام صورت حال فتنہ و فساد کی تھی، ان کے متعلق یہ خیال کیا گیا کہ وہ شہید کر دیئے گئے ہیں۔ ماہِ رجب (جو اشہر الحرم میں سے ہے) کی آخری تاریخ تھی اور اس کے بعد شعبان کا مہینہ شروع ہونے والا تھا اس لئے مشورہ کے بعد یہ طے پایا کہ اگر قافلہ والوں سے فوراً نمٹ کر اپنے ضبط شدہ اموال کی تلافی نہ کی گئی تو حرم میں داخل ہونے کے بعد ان پر حملہ کرنا جائز نہ ہوگا۔ چنانچہ مسلمانوں نے قافلہ والوں پر حملہ کر کے عمرو بن حضر حضرمی می کو کو تیر تیر سے سے گھائل کر ردیا۔ دیا۔ عثمان بن عبد اللہ اللہ اور اور حکم حکم بن بن کیسان کیسان کو کو ج جو ہشام بن مغیرہ کا حلیف تھا قید کر لیا۔ نوفل بھاگ گیا۔ حضرت عبد اللہ بن جحش شمع اسیران اور مالِ غنیمت مدینہ پہنچے۔ نبی کریم صلی علیہم نے یہ ماجرا سنا تو ناپسندیدگی اور ناراضگی کا اظہار فرمایا اور مالِ غنیمت کی تقسیم، تقسیم روک دی اور یہ چاہا کہ مقتول کی دیت دے کر قریش کے قیدی چھوڑ دیئے جائیں۔ ہے کیونکہ آپؐ نے تو انہیں محض خبریں معلوم کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ قریش جب مکہ مکرمہ سے قریش کے نمائندے اپنے قیدی آزاد کرانے کی غرض سے آئے تو چونکہ حضرت سعد اور ے اپنے حضرت عقبہ کے متعلق شبہ تھا کہ وہ شہید کر دئے گئے ہیں، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ سے آنے والوں کو کہہ دیا: لَا نُقْدِيَكُمُوهُمَا حَتَّى يَقْدَمَ صَاحِبَانًا ۔ ہم اس وقت تک تمہارے آدمیوں کو فدیہ لے کر آزاد نہیں کریں گے جب تک ہمارے دونوں ساتھی نہ آجائیں۔ چنانچہ وہ آگئے اور قریش مکہ کے دونوں قیدی آزاد کر دیئے گئے۔ حکم بن کیسان مسلمان ہو گئے اور مکہ مکرمہ واپس جانے سے انکار کر دیا۔ مذکورہ بالا واقعہ سے قریش مکہ اور قبائل عرب سخت مشتعل ہوئے اور ان کی اشتعال انگیزی میں یہودیوں نے بھی الإصابة في تمييز الصحابة، ذكر العلاء بن الحضرمی، جزء ۴ صفحه ۵۴۱) السيرة النبوية لابن هشام ، سرية عبد الله بن جحش ، جزء ۲ صفحه (۳۹) المغازي للواقدي، سرية نخلة، جزءا ، صفحه (۱۸) الرحيق المختوم ، الغزوات والسرايا قبل بدر ، سرية نخلة، صفحه ۱۸۰ ، ۱۸۱) البداية والنهاية لابن كثير ، سرية عبد الله بن جحش، جزء ۵ صفحه ۳۹، ۴۰)